جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ڈپلومیٹک انکلیو میں داخلے سے روکنے پر دھمکیاں دینے والی خاتون کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے بعد دوبارہ جیل سے کہاں منتقل کردیاگیا؟ حیرت انگیز صورتحال

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) ڈیوٹی جج نے بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہونے کی کوشش سے روکنے پر سکیورٹی اہلکاروں کو دھمکیاں دینے والی خاتون کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا تاہم طبیعت ناساز ہونے پر خاتون کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ڈاکٹر شہلا شکیل سیٹھی کو اتوار کی صبح پولیس نے اسلام آباد کی سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کیا تھا

جس کے بعد انہیں ڈیوٹی جج عدنان رشید کے روبرو پیش کیا گیا جہاں پولیس کی جانب سے ملزمہ کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔اس موقع پر ڈاکٹر شہلا کے وکیل نے ضمانت کی درخواست کردی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی آر میں درج تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔وکیل کے مطابق ان کی موکلہ بیرون ملک سے کافی عرصے بعد پاکستان آئی ہیں لیکن پولیس اہلکاروں نے رہنمائی کرنے کے بجائے دبا ؤکا ماحول بنادیا۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کی موکلہ دل کی مریضہ ہیں اور دبا ؤمیں ذہنی حالت مفلوج ہوجاتی ہے۔عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا۔جج عدنان رشید کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر ملزمہ کا طبی معائنہ کرائیں، اگر طبی معائنے میں ملزمہ کو صحت مند قرار دیا جائے تو جیل بھجوا دیں اور اگر ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں تو ہسپتال میں داخل کرادیں۔جج نے پولیس حکام کو وکیل صفائی کو واقعے کی ویڈیو کلپ دکھانے کی بھی ہدایت کی۔واضح رہے کہ 17 اکتوبر کو پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ ڈپلومیٹک انکلیو کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسر کی جانب سے تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کروایا گیا تھا۔مذکورہ پولیس افسر نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر شہلا نامی خاتون نے بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی کے ساتھ ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر جانے کی کوشش کی اور روکنے پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ انہیں گاڑی اوپر چڑھانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

ذرائع کے مطابق شہلا شکیل سیٹھی امریکہ میں ڈاکٹر رہی ہیں جو حال ہی میں وطن آئی ہیں۔ملزمہ کی طبیعت گرفتار ہونے کے بعد خراب ہو گئی جس پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ڈاکٹر شہلا کو زیر علاج رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کو آج تک سی سی یووارڈ میں زیر علاج رکھا جائے گا ۔شعبہ امراض قلب کے ڈاکٹروں نے خاتون کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے ۔خاتون شدید ذہنی دباؤ اور غنودگی کی شکار ہے ۔بلڈ پریشر لیول اور ای سی جی ٹیسٹ معمول کے مطابق نہیں جبکہ ڈاکٹروں نے مزید طبی ٹیسٹ تجویز کیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو سی سی یو وارڈ میں آکسیجن ماسک لگا دیا گیا ہے اور دو خواتین پولیس اہل کار سکیورٹی پر تعینات کر دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…