ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستانی اقدامات غیر تسلی بخش قرار،اے پی جی وفد نے اپنی مشاہداتی رپورٹ سے حکام کو آگاہ کردیا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے وفد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستانی اقدمات کو بین الاقوامی معیارات کے تناظر میں غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ اے پی جی وفد نے اپنی مشاہداتی رپورٹ سے تمام متعلقہ اداروں کے حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

رپورٹ میں قوانین، قواعد و ضوابط اور میکانزم میں خرابیوں اور اداروں کی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس رفتار سے کام کر کے پاکستان فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نہیں آسکتا۔پاکستان آنے والے وفد نے اس سلسلے میں وزارت خزانہ، داخلہ، خارجہ اور قانون، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی ار)، قومی احتساب بیورو (نیب)، انسدادِ منشیات فورس، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، سینٹرل ڈائریکٹوریٹ ا?ف نیشنل سیونگز اور انسدادِ دہشت گردی کے صوبائی محکموں سے مشاورت کی۔وفد نے ان اداروں کو بتایا کہ وہ اپنی مرتب کردہ رپورٹ 19 نومبر کو پاکستان کو پیش کر دے گا جس کے بعد پاکستان کو اس حوالے سے 15 دن کے اندر اپنا جواب جمع کروانا ہوگا، جس کا جائزہ لے کر اے پی جی پیرس میں ایف اے ٹی ایف کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کرے گا۔واضح رہے کہ اے پی جی وفد آئندہ برس مارچ اور اپریل میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں ایک بار پھر اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، بعد ازاں اس کی رپورٹ جولائی 2019 میں عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی۔خیال رہے کہ حکام کو واضح طور پر بتایا جاچکا ہے کہ اگر پاکستان گرے لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے وفد کے آئندہ دورے سے قبل بھرپور اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے،

بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائیگا۔رپورٹ کے مطابق وفد نے انسدادِ منی لانڈرنگ کی کوششوں، غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی اور دہشت گردوں کے مالی تعاون کو روکنے کے طریقہ کار میں برتی جانے والی کوتاہیوں پر روشنی ڈالی، وفد کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں۔وفد کے مطابق جن معاملات میں قانون مضبوط ہے اس میں بھی عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

خیال رہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون میں کیے گئے سمجھوتے کے تحت پاکستان کو آئندہ برس ستمبر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے 10 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔اس سلسلے میں حکومت کو دہشت گرد تنظیموں اور مشتبہ دہشت گردوں کے مالی اثاثوں، خاندانی پس منظر اور دیگر معلومات مرتب کر کے اسے جنوری تک تمام اداروں کو فراہم کرنا ہے، اگر پاکستان ان اقدامات پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام رہا تو اس کا اندراج بلیک لسٹ میں کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…