پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آئیں ہم ملکر ڈالر کا استعمال کرنا ہی ترک کر دیتے ہیں، دوست ملک نے پاکستان کو متبادل منصوبہ پیش کر دیا، بڑی پیشکش

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے گزشتہ روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب میں کہا کہ ہم رقم کے عوض لین کے بجائے بارٹر سسٹم کے ذریعے پاکستان سے تجارت کے خواہاں ہیں، ایک موقر قومی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی و معاشی تعلقات چاہتا ہے

اور اس کے لیے ہم رقم کے عوض لین دین کی بجائے بارٹر سسٹم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کے خواہش مند ہیں اور تجارت کا یہ طریقہ دونوں ملکوں کے لیے یکساں فائدہ مند رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ثقافت بھی ساجھی ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایران ہمیشہ سے کوشش کرتا آ رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان ہماری پہلی ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ بارٹر سسٹم کے ذریعے ہم تیل، کیمیکل، گیس اور دیگر شعبوں میں باہمی تجارت کو بہت فروغ دے سکتے ہیں، پاکستان کو دودھ کی پیداوار میں نمایاں مقام حاصل ہے اور اس سلسلے میں ایران کا ڈیری سیکٹر کا تجربہ پاکستان کے لیے سود مند ہو سکتا ہے۔ ایران کے قونصل جنرل رضا نظیری نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ چینلز کی کمی پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں مشکلات کا ایک سبب ہے، ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال سابق پاکستانی حکومت سے اسی حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ موجودہ پنجاب حکومت سے میں رابطہ کروں گا کہ وہ سابق حکومت کے اس معاہدے پر عملدرآمد کرائے تاکہ ایران اور پاکستان کی طرفہ تجارت کے فروغ میں حائل رکاوٹ کا خاتمہ ہو سکے۔اس طرح ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے ڈالر میں لین دین کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…