پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

آئیں ہم ملکر ڈالر کا استعمال کرنا ہی ترک کر دیتے ہیں، دوست ملک نے پاکستان کو متبادل منصوبہ پیش کر دیا، بڑی پیشکش

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے گزشتہ روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب میں کہا کہ ہم رقم کے عوض لین کے بجائے بارٹر سسٹم کے ذریعے پاکستان سے تجارت کے خواہاں ہیں، ایک موقر قومی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی و معاشی تعلقات چاہتا ہے

اور اس کے لیے ہم رقم کے عوض لین دین کی بجائے بارٹر سسٹم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کے خواہش مند ہیں اور تجارت کا یہ طریقہ دونوں ملکوں کے لیے یکساں فائدہ مند رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ثقافت بھی ساجھی ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایران ہمیشہ سے کوشش کرتا آ رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان ہماری پہلی ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ بارٹر سسٹم کے ذریعے ہم تیل، کیمیکل، گیس اور دیگر شعبوں میں باہمی تجارت کو بہت فروغ دے سکتے ہیں، پاکستان کو دودھ کی پیداوار میں نمایاں مقام حاصل ہے اور اس سلسلے میں ایران کا ڈیری سیکٹر کا تجربہ پاکستان کے لیے سود مند ہو سکتا ہے۔ ایران کے قونصل جنرل رضا نظیری نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ چینلز کی کمی پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں مشکلات کا ایک سبب ہے، ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال سابق پاکستانی حکومت سے اسی حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ موجودہ پنجاب حکومت سے میں رابطہ کروں گا کہ وہ سابق حکومت کے اس معاہدے پر عملدرآمد کرائے تاکہ ایران اور پاکستان کی طرفہ تجارت کے فروغ میں حائل رکاوٹ کا خاتمہ ہو سکے۔اس طرح ایرانی قونصل جنرل رضا نظیری نے ڈالر میں لین دین کے خاتمے کا عندیہ دیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…