جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بغیر دوپٹے کے خاتون کو سیکریٹریٹ میں داخلے سے روکنے کاتنازعہ، وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (ا ین این آئی) وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ خاتون کو بغیر دوپٹے کے سیکریٹریٹ میں داخلے سے روکنے والے پولیس اہلکار کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔جمعہ دوپہر لاہور سول سیکریٹریٹ آنے والی سدرہ بٹ نامی خاتون کو دوپٹہ نہ ہونے پر ایک پولیس اہلکار نے سیکریٹریٹ میں داخلے سے روک دیا تھا۔تاہم خاتون کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا یہ احکامات تحریری ہیں؟

جس پر اہلکار نے جواب دیا کہ انہوں نے زبانی احکامات جاری کیے جبکہ ایک اور صوبائی وزیر کی جانب سے بھی یہی احکامات دیئے گئے ہیں۔تاہم صوبائی وزیر نے اس بات کی تردید کی۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے مذکورہ معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر دوپٹہ اوڑھے سیکریٹریٹ میں آنے والی خواتین کو ملنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ گارڈ کو کبھی اس طرح کے احکامات جاری نہیں کیے، میرے نام سے غلط بات منسوب کی گئی۔صوبائی وزیر صحت نے مزید کہا کہ دوپٹہ ہماری تہذیب کا حصہ ضرور ہے لیکن اس کے لیے کسی کو پابند نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس حوالے سے ٹوئٹ بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے اور شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا۔ واضح رہے کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو پولیس اہلکاروں نے سول سیکرٹریٹ میں بغیر دوپٹے کے داخل ہونے سے روک دیا، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پولیس اہلکار خاتون ڈاکٹر کو روک رہے ہیں، پولیس اہلکار نے کہا کہ گزشتہ روز میو ہسپتال سے کچھ نرسیں صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملنے آئیں جن کے لباس پر انہوں نے اعتراض کیا تھا اور ہمیں صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین اور ایک اور وزیر نے زبانی طور پر آرڈر کیے ہیں کہ دوپٹے کے بغیر کسی خاتون کو نہ آنے دیا جائے۔ اس موقع پر خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ میرا لباس تو ایسا نہیں ہے، اس پر پولیس عہدیدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کسی کو ڈوپٹے کے بغیر انٹری کی اجازت نہیں

اس پر خاتون نے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی تحریری حکم نامہ موجود ہے تو پولیس اہلکار نے کہا کہ صوبائی وزیر کی جانب سے کوئی تحریری حکم نامہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ احکامات زبانی دیے گئے ہیں، اس موقع پر پولیس والے نے کہا کہ ایک اور وزیر نے کہا کہ یار آپ لوگوں کی بھی آنکھیں ہیں کہ آپ ادھر سے ہی ایسے لوگوں کو نہ آنے دیں کہ ہر بندہ ان کو ہی تکتا رہے کیا آپ کو یہ اچھا لگے گا، خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ میرے لباس ایسا نہیں کہ آپ اس پر اعتراض کر سکیں، اس موقع پر اہلکار نے کہا کہ آپ دوپٹہ لے لیں، خاتون نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگر میں اس لباس میں علما کو بھی ملوں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا گلے میں دوپٹہ لینا ہے یا سرپر دوپٹہ اوڑھنا ہے، اس کے جواب میں پولیس والے نے کہا کہ اگر آپ دوپٹہ نہیں لینا چاہتیں تو کوئی پٹی ہی لے لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…