ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

کوئی شوہر اپنی بیوی کو جانو کہہ ہی نہیں سکتا، پہلے ثابت کریں کہ۔۔ معروف سیاستدان کی شادی کے حوالےسے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی بے اختیار ہنس پڑینگے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ڈاکٹر امجد کی مبینہ شادی کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر امجد کی مبینہ شادی

کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار روزینہ بی بی نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ ڈاکٹر امجد ان کے شوہر ہیں اور ان کو خرچہ نہیں دیتے ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر امجد ان کی مؤکلہ کو ماہانہ خرچ نہیں دے رہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ خاتون خرچہ کی بات بعد میں کریں پہلے شادی ثابت کریں اور شادی ثابت کرنے کیلئے ثبوت پیش کریں جس پر خاتون کے وکیل نے خاتون کو بھیجے گئے ڈاکٹر امجد کے موبائل میسجز کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موبائل میسجز موجود ہیں ۔ ڈاکٹر امجد نے روزینہ بی بی سے شادی کی اور اپنی اہلیہ روزینہ کو میسج کرتے رہے کہ ’’جانو میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘‘۔درخواست گزار کے وکیل کے دلائل پر جسٹس محسن اخترکیانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ’’ کوئی بھی خاوند اپنی بیگم کو یہ میسج نہیں کر سکتا‘‘۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر امجد ان کی مؤکلہ کو ماہانہ خرچ نہیں دے رہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ خاتون خرچہ کی بات بعد میں کریں پہلے شادی ثابت کریں اور شادی ثابت کرنے کیلئے ثبوت پیش کریں جس پر خاتون کے وکیل نے خاتون کو بھیجے گئے ڈاکٹر امجد کے موبائل میسجز کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موبائل میسجز موجود ہیں ۔ ڈاکٹر امجد نے روزینہ بی بی سے شادی کی اور اپنی اہلیہ روزینہ کو میسج کرتے رہے کہ ’’جانو میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘‘عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…