منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

اسے نکال باہر کرو۔۔ ۔ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائراشفاق پرویز کیانی نے شہباز شریف کو کس بندے کو فارغ کرنے کا کہا تھا، معروف صحافی انصار عباسی نے سنسنی خیز انکشاف کر دیا، جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(انصار عباسی) ملک کے معروف صحافی انصار عباسی نے روزنامہ جنگ میں شائع ہونیوالی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شہباز شریف نے جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ان کے بھائی کی لاہور کے رنگ روڈ کی تعمیر کا کام اطمینان بخش کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے متعلق بتایا تو انہوں نے جواب دیا، ’’اسے نکال باہر کرو‘‘ (Throw him out)۔ جنرل (ر) کیانی

کے قریبی ذریعے نے شہباز شریف کے بدھ کو پارلیمنٹ میں کامران کیانی کے اربوں روپے کے ٹھیکے کے حوالے سے دیے گئے بیان کی تصدیق کی۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے اس ذریعے نے کہا کہ جنرل (ر) کیانی نے اپنے بھائی کا دفاع کیا اور نہ ہی ان کا ٹھیکہ بچانے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے کہا کہ ا گر کامران میرٹ پر کام نہیں کر رہا تو اسے نکال باہر کیا جائے۔ ذریعے نے تصدیق کی کہ بعد میں کامران کیانی کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا گیا لیکن اس ایشو پر اس وقت کے آرمی چیف اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان کوئی مباحثہ نہیں ہوا۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ صرف یہی نہیں بلکہ چوہدری پرویز الٰہی جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اس وقت کامران کیانی کی کمپنی کو رنگ روڈ کا ٹھیکہ ملا تھا، وہ بھی اسبات کی تصدیق کریں گے کہ جنرل کیانی نے کبھی بھی کامران کیانی سمیت اپنے دیگر کاروباری بھائیوں کے حق میں کسی سے کوئی سفارش نہیں کی۔ میڈیا کے کچھ حلقے اچھے ساکھ کے حامل سابق آرمی چیف کو ان کے بھائی کے تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) کیانی کے متعلق یہ اطلاعات جھوٹ ہیں کہ وہ آسٹریلیا ہجرت کر چکے ہیں یا وہاں ان کی بڑی زمینیں ہیں۔ جمعرات کو شہباز شریف نے کہا کہ نیب انوسٹی گیشن افسر نے انہیں بتایا کہ ان کے خلاف آشیانہ اقبال اسکیم میں کرپشن کے کوئی الزامات نہیں لیکن الزام

یہ ہے کہ انہوں (شہباز) نے ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا پروجیکٹ میجر (ر) کامران کیانی کو دینے کی کوشش کی تاکہ اس وقت کے آرمی چیف کو خوش کر سکیں۔ شہباز شریف نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ انہوں نے نیب عہدیدار سے کہا کہ وہ میجر (ر) کامران کیانی کو یہ ٹھیکہ کیسے دے سکتے تھے جب انہوں نے خود ان کی کمپنی کون پرو کو لاہور کے رنگ روڈ کی تعمیر کیلئے پہلے دیا جانے

والا 35؍ ارب روپے کا ٹھیکہ سست روی کی وجہ سے منسوخ کیا تھا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’’جب میجر کامران نے پروجیکٹ میں تیزی لانے کے مشورے پر دھیان نہ دیا تو میں نے اس ایشو پر سابق آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے ملاقات کی تھی‘‘ نتیجتاً کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔ شہباز شریف نے جنرل کیانی کے رویے کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ٹھیکہ منسوخی کی کبھی

شکایت نہیں کی۔ شہباز نے کہا، ’’میں نے نہ صرف ٹھیکہ منسوخ کیا بلکہ یہ معاملہ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو بھی بھجوایا۔‘‘ اسی دوران نیب کے ایک ذریعے نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ دراصل کالسنز کے خلاف شکایت برہان نامی شخص نے کی تھی۔ ذریعے نے بتایا کہ برہان نے اُس خفیہ میٹنگ کی آڈیو ریکارڈنگ کی تھی جس میں ٹھیکے کی بولی کی دستاویز ا ت میں ہیراپھیری کی جا رہی تھی۔

ذریعے نے مدعی کے حوالے سے کہا، ’’وہ لوگ نیلامی کی دستاویزات میں کچھ تبدیلیاں کر رہے تھے جو مجھے غلط لگا، اسلئے میں نے ثبوت بنایا اور اسے پی ایل ڈی سی کے لوگوں کے حوالے کیا۔‘‘ مدعی کا کہنا تھا کہ کامران کیانی نے اس سے رابطہ کیا تھا جسے میں نے شواہد دیے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں پنجاب اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ نے مجھ سے اس مدعی کے حوالے سے بیان حاصل کرنے کیلئے رابطہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…