پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کی کوششیں کامیاب،حکمت عملی نے رنگ دکھاناشروع کردیا،پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر 1 ارب ڈالر ،برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوگیا،سعودی عرب، چین، یو اے ای کی مدد بھی حاصل ہوگئی

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان کم شرح سود پر قرض کے حصول کیلئے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف میں طویل مدت میں ادائیگی کے قرضے پر بات ہو رہی ہے۔

چین بھی آئی ایم ایف پروگرام کے حصول کیلئے پاکستان کی مدد کر رہا ہے، ٗسعودی عرب، چین، یو اے ای سے مالی تعاون پرمذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر 1 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہے۔ذرائع کے مطابق روپے کی قدر میں کمی، بہترمالی پالیسیاں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوئیں ٗاگست، ستمبر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی رقوم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگست اور ستمبر میں درآمدات میں اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا، درآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے حوالے سے امریکی مالیاتی ادارے موڈیز نے تبصرہ کیا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا فنڈ نئی حکومت کی مدد کرے گا۔ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے متوقع آئی ایم ایف پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال جاری خسارہ چار اعشاریہ چھ فیصد رہے گا۔موڈیز کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام نئی حکومت کی قرض لینے کی صلاحیت بہتر کریگا ٗ ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے آخری پروگرام کے بعد سے معاشی توازن خراب ہوا ہے ٗنئے پروگرام سے ان خرابیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…