جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

’’عوام پر مہنگائی کا ایٹم بم گرا نے کی تیاریاں،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ‘‘ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں کہہ رہی ہیں کہ ’’بڑی دیر کردی کپتان آتے آتے‘‘

datetime 14  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی) ملک کے معروف معاشی ماہرین و تجزیہ کاروں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور وعدوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 2018کے الیکشن سے پہلے وزیراعظم عمران خان جن تبدیلیوں کی بات کرتے تھے اب ان تبدیلیوں کیلئے عمل درآمد کرنا ان کے لئے مشکل تر ہوتا جارہا ہے‘ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں کہہ رہی ہیں کہ ’’بڑی دیر کردی کپتان آتے آتے‘‘،

گیس مہنگی‘ بجلی مہنگی‘ آٹا مہنگا‘ عوام پر مہنگائی کا بم نہیں بلکہ ایٹم بم گرا ڈالا ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا،پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر معاشی تجزیہ کاروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بدترین معاشی بحران‘ بدترین انتظامی بحران یہ وہ الفاظ تھے جو وزیراعظم عمران خان الیکشن سے قبل جلسوں میں اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کرتے تھے ۔ عمران خان کہتے تھے کہ ہم آئیں گے تو تبدیلی آئے گی بھیک کبھی نہیں مانگیں گے۔ آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر کبھی نہیں جائیں گے مرجائیں گے لیکن جھکیں گے بھی نہیں۔ پہلے سو دنوں میںہم آکر معیشت کا پہیہ درست کردیں گے معیشت کی گاڑی اس وقت پکار رہی ہے کہ بڑی دیر کردی کپتان آتے آتے۔ کپتان نے ملک کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے پوری دنیا کے بہترین ماہرین اکٹھے کردیئے اور ایک اکنامک ایڈوائزری کونسل کی تشکیل نو کی۔ آج اکنامک صورتحال بھی کہہ رہی ہے کہ بڑی دیر کردی کپتان آتے آتے۔ گیس مہنگی‘ بجلی مہنگی‘ آٹا مہنگا‘ عوام پر مہنگائی کا بم نہیں بلکہ ایٹم بم گرا ڈالا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آج غریب حکومت سے یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ ہممیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔ حکومت کے یوٹرن پر یوٹرن ہورہے ہیں حکومت کے پہلے پچاس دنوں میں ہی ڈالر ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے صرف دو دنوں میں روپے کی قدر میں 13روپے گراوٹ پہلی بار ہوئی ہے۔

سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ ڈالر کی قیمت نے جب پٹکا مارا تو وزیراطلاعات پنجاب نے ایسا بیان دے دیا کہ اب کا لوگ وزیر مواصلات کی تقریر سے موازنہ کررہے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ سابقہ حکومتوں کے لوگوں نے ڈالر کو بڑے بے ڈھنگے طریقوں سے خرید لیا خریدنے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اگر فیاض الحسن چوہان اپنے اس بیان سے پہلے آگاہ کردیتے تو آج ڈالر اتنا اوپر نہ جاتا۔

آج ڈالر اسحاق ڈار کی یاد دلا رہا ہے ان کے دور میں ڈالر کو 105 روپے پر روک دیا گیا تھا گیس بجلی اور عام ضروریات زندگی کی اسیاء پر بھی قابو پالیا گیا تھا۔ انیل مسرت عمران خانکا قریبی دوست جو پاکستان میں پچاس لاکھ گھروں کی منصوبہ بندی لے کر آیا۔گزشتہ حکومتوں کے دوستوں کے حکومتی منصوبوں میں مداخلت پر عمران خان ہی احتجاج کیا کرتے تھے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر معاشی تجزیہ کاروں کی

سمجھ سے بالاتر ہے لیکن عمران خان پھر بھی اس منصوبہ کی تکمیل پر پرعزم ہیں کہیں یہ نہ ہو کہ یہ پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ بھی بول دے کہ بڑی دیر کی کپتان آتے آتے۔ عمران خان کو جو منصوبے مکمل نہیں ہو پارہے ان کے لئے عوام سے سچ بولیں عمران خان کے ایک وزیر علی زیدی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈالر 150 روپے تک جانے والا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…