ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

زینب کے قاتل عمران کو اسی قتل گاہ میں پھانسی دی جائے جہاں اس نے ہماری بیٹی کو قتل کیا تھا، پھانسی کے بعد اس کی لاش کہاں پھینکی جائے؟ ننھی پری کے والدین نے عدالت اور حکومت سے کیا مطالبہ کر دیا؟

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کے قاتل عمران نے جہاں زینب کو قتل کیا تھا وہیں اس کو تختہ دار پر لٹکایا جائے اور زینب کو قتل کرنے کے بعد اس نے جس کچرے کے ڈھیر میں پھینکا تھا وہیں اس کو پھانسی دینے کے بعد پھینکا جائے، سر عام پھانسی دینے سے مجرموں میں خوف پیدا ہو گا اور پھر کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں، زینب کے والدین نے عدالت

اور حکومت سے بڑی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق زینب کے والدین نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عدالت اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی ننھی پری زینب کو قتل کرنے والے سیریل کلر عمران کو سر عام پھانسی دی جائے ۔ زینب کے والد کا کہنا تھا کہ زینب کے قاتل عمران کو نشان عبرت بنانے کیلئے ضروری ہےکہ اس کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ کوئی دوسرا اس طرح کی مکروہ حرکت نہ کرے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ قاتل عمران نے ایسی حرکت کی ہے جس کی سزا پھانسی بہت معمولی ہے میرا مطالبہ ہے کہ زینب کے قاتل عمران نے جہاں زینب کو قتل کیا تھا وہیں اس کو سر عام تختہ دار پر لٹکایا جائے اور اس نے زینب کو قتل کرنے کے بعد اس نے جس کچرے کے ڈھیر میں اس کی لاش پھینکی تھی وہیں اس کو پھانسی دینے کے بعدپھینکا جائے تاکہ ایسی ذہنیت کے حامل افراد میں خوف پیدا ہو اور وہ اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچیں بھی نہیں۔ زینب کے والد کا کہنا تھا کہ زینب کے قاتل عمران کو نشان عبرت بنانے کیلئے ضروری ہےکہ اس کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ کوئی دوسرا اس طرح کی مکروہ حرکت نہ کرے۔ زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ قاتل عمران نے ایسی حرکت کی ہے جس کی سزا پھانسی بہت معمولی ہے میرا مطالبہ ہے کہ زینب کے قاتل عمران نے جہاں زینب کو قتل کیا تھا وہیں اس کو سر عام تختہ دار پر لٹکایا جائے اور اس نے زینب کو قتل کرنے کے بعد اس نے جس کچرے کے ڈھیر میں اس کی لاش پھینکی تھی وہیں اس کو پھانسی دینے کے بعدپھینکا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…