پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کمسن بچی سے نازیبا حرکات کرنیوالے استاد کا اعترافی بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل، بچیوں کے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا؟ شرمناک انکشافات

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

جھنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) 13 سالہ بچی سے نازیبا حرکات کرنے والے استاد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، لوگوں نے اس بے حس انسان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا، جس پر پولیس نے اس استاد کو گرفتار کر لیا،

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل جھنگ کے موضع کلکرائی میں ایک مدرسہ کے استاد انوار القمر نے 13 سالہ طالبہ سے نازیبا حرکات کیں جس کی اس نے ویڈیو بھی بنائی، اس استاد کا موبائل فون کہیں گم ہو گیا تو جس شخص کو یہ موبائل ملا اس نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے وائرل کردی، اب گرفتار کیے گئے اس استاد کی اعترافی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے، اس ویڈیو میں اس شخص نے کہا کہ وہ مسجد سیدنا علی مرتضیٰ میں پڑھاتا تھا اور اس کے پاس کل 60 بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے، ان بچوں میں 25 سے 30 کے قریب لڑکیاں بھی تھیں۔ اس نے بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی بچی کا نام (ش) تھا جو وہاں قریب ہی رہتی تھی اور جو کچھ ویڈیو میں ہے، میں نے اس کے ساتھ صرف وہی کچھ کیا ہے۔ جب ویڈیو بنانے والے نے اس استاد سے سوال کیا کہ آپ کی نیب خراب تھی، جس پر اس نے انتہائی بے شرمی سے کہا کہ میری نیت خراب نہیں تھی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو میں اس بچی کے ساتھ بد اخلاقی کرتا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور جو کچھ ویڈیو میں ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ استاد نے بتایا کہ وہ ویڈیو میں نے خود بنائی تھی لیکن بعد میں ڈیلیٹ کر دی تھی لیکن پتہ نہیں وہ کیسے بچ گئی اور انٹرنیٹ پر بھی آ گئی اور بچی کے گھر والوں کو بھی اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ملزم استاد انوار الحق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جھنگ سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن پولیس نے اسے لاہور سے گرفتار کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…