بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا ہنگامی ایکشن ، دھماکے دارفیصلہ, عوام کی سفری مشکلات کا حل ! کہاں ائیر پورٹ تعمیر کیا جائے گا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی حکومت نے گزشتہ 50 برسوں سے غیر فعال چلاس ایئرپورٹ کی تعمیر نو کا فیصلہ کرلیا،دیامربھاشا ڈیم،سی پیک منصوبوں کے لیے چلاس ایئر پورٹ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔دیامربھاشا ڈیم اورسی پیک منصوبوں کی تکمیل کے لیے اس ایئر پورٹ کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے،پچاس برس گزرنے کے بعد آخرکار حکومت گلگت بلتستان اوروفاقی حکومت کو

چلاس ایئر پورٹ کی تعمیر نو کا خیال آہی گیاہے،اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی،ایئرفورس اور واپڈا کی ٹیمیں چلاس پہنچ گئی ہیں ،جہاں جلد ایئر پورٹ کو فعال بنانے کیلئے کام شروع کیا جائیگا۔گلگت بلتستان کی دفاعی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کی آزادی کے کچھ سال بعد تعمیر ہونے والا چلاس ایئرپورٹ گزشتہ پچاس برسوں سے غیر فعال ہے،سیاحوں کو سفری سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث سیاحت کو بھی نقصان ہورہا ہے، گلگت میں 1947 سے لے کر 1973 تک آپریشنل رہنے والا چلاس ایئر پورٹ سول ایوی ایشن کی غفلت اورعدم توجہی کے باعث غیر فعال ہے۔ایئر پورٹ سے ملحقہ حصہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو اب کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے،گزشتہ پچاس برسوں سے چلاس میں کوئی مسافر پرواز نہیں چلائی گئی ، جس سے دیامر کے عوام کو سفری سہولیات میں مشکلات کا سامنا ہے،جب کہ ملک کے خوبصورت علاقے میں سیاحت کے فروغ کو بھی دھچکا لگا ہے۔سیاحت سے متعلقہ حلقوں کے مطابق چلاس ائیرپورٹ کے فعال ہو نے سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…