جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف سوچتی رہ گئی اور پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ایسے شاندار منصوبے کا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے ، بڑی خبر آگئی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے مفت سرکاری ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس ضمن میں سندھ حکومت کے ذرائع نے بتایاکہ کراچی میں آبادی کے لحاظ سے 200 ایمبولینس سروس کی فوری ضرورت ہے، اس وقت کراچی میں سرکاری ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے غریب مریضوں بالخصوص امراض نسواں میں خواتین کو عالمی معیارکی ایمبولینس سروس نہ ملنے

کی وجہ سے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کراچی میں تاحال سرکاری ایمبولینس کی کوئی سہولت میسر نہیں جس کی وجہ سے مریض ایدھی، چھیپا یا امن فائونڈیشن میں اپنی مدد آپ کے تحت ایمبولینس استعمال کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد پر ایک ایمبولینس ہونا لازمی ہوتی ہے مگرکراچی میں صورتحال اس کے برعکس ہے 3لاکھ افراد پر ایک نجی ایمبولینس کی سہولت میسر ہے، نجی ایمبولینس سروس پر مریضوں کے شدید دبائو کے پیش نظر حکومت سندھ نے امن فائونڈیشن سے رابطہ کرلیا اورکراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت امن فائونڈیشن کی 200 ایمبولینس سروس کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے، کراچی میں آبادی کے لحاظ سے کم ازکم 200 جدید ایمبولینس کی اشد ضرورت ہے جبکہ کراچی میں امن فائونڈیشن کی 60 ایمبولینس آپریشنل ہیں جو آبادی لے لحاظ سے بہت کم ہیں۔اس حوالے سے امن فائونڈیشن کے سربراہ برائے اسٹریجک آپریشن خاقان سکندر نے بتایا کہ حکومت سندھ نے مریضوں کوایمبولینس کی سروس فراہم کرنے کیلیے امن فائونڈیشن سے رابطہ کیااور 200ایمبولینس سروس چلانے کیلیے بات کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ کراچی میں ایمبولینس سروس فراہم کرنے کیلیے ہمیں مزید140ایمبولینس کی ضرورت ہے جو ہم حاصل کررہے ہیں۔خاقان سکندرنے بتایاکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر 2منٹ کے اندر ایمرجنسی ہوتی رہتی ہے جس کے لیے متاثرہ مریض کو گھر سے یا اسپتال سے اسپتال منتقل کیاجاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ کراچی کے عوام کیلیے پہلی بار امن فائونڈیشن کے تحت ایمنولینس سروس کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، امید ہے رواں ماہ کے دوران حکومت سندھ اور امن فائونڈیشن کے درمیان معاہدہ طے پا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…