منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

’’میرے کپتان۔۔۔ کہاں ہے نیا پاکستان‘‘ پشاور میٹرو 8 ارب سے 86 ارب تک جا پہنچی، منصور علی خان کے اپنے ٹی وی پروگرام میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف اینکر پرسن و صحافی منصور علی خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے لیکن پھر بھی تاحیات نااہلی کے باوجود وہ سرکاری میٹنگز اور فیصلوں میں شامل رہے تو سوال اٹھیں گے اور آوازیں گونجیں گی اور نعرے لگیں گے کہ میرے کپتان۔۔ کہاں ہے نیا پاکستان،

انہوں نے اپنے پروگرام میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی مثالیں دی جاتی ہیں، کے پی کے سے پہلی غیر قانونی اور غیر آئینی بھرتیوں کی ہے جہاں من پسند اور چہیتوں کی لمبی فہرست ہے لیکن مبینہ طور پر ان میں سے ایک صاحب نصراللہ خٹک جو اس وقت سیکرٹری ہے، وقار شاہ اور عطاء اللہ خان بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے باوجود سابق سپیکر اسد قیصر جاتے جاتے اور مشتاق غنی آتے ہی انہی صاحب کی تقرری کا حکم نامہ جاری کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترقیاں، تقرریاں اور تعیناتیاں جن پر سپریم کورٹ کے نوٹس کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا، آج خیبرپختونخوا کی عوام ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی یہی پوچھ رہا ہے کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان، وزیراعظم ہاؤس کی 102 گاڑیوں اور 4 ہیلی کاپٹرز کی نیلامی کا اعلان کیا جاتا ہے یہی نہیں بھینسوں کو بھی نیلام کیا گیا اور ایک متحرک اشتہاری مہم چلائی گئی سادگی کی یہ مہم قابل تحسین لیکن کے پی کے سے ہی دوسری مثال ہے، پشاور میں کھڑی کروڑوں مالیت کی سرکاری گاڑیاں، ان گاڑیوں میں لگژری گاڑیاں بھی شامل ہیں، جن کی خرید پر سرکاری خزانے سے ہی رقم خرچ کی گئی، عوام کے پیسوں سے خریدی گئی یہ گاڑیاں کیوں نیلام نہیں کی جا سکتیں، یہ گاڑیاں اس وقت نیلامی کے لیے تیار ہیں لیکن تمام گاڑیاں اس سادگی اور کفایت شعاری کی مہم میں شامل نہ کیے جانے پر سراپا احتجاج ہیں وہ اپنی نظراندازی پر سوال کر رہی ہیں کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان،

منصور علی خان نے کہا کہ کے پی کے سے تیسری مثال پشاور میٹرو کی ہے، جس کے بارے میں اسد عمر صاحب نے پرویز رشید صاحب کو چیلنج کیا تھا کہ ہم میٹرو آٹھ ارب روپے میں بنا کر دیں گے، آپ کی جماعت لاہور کی میٹرو بس سروس کو جنگلہ بس سروس جیسے طنزیہ ناموں سے پکارتی رہی جبکہ آج پشاور میٹرو 8 ارب سے 86 ارب روپے تک جا پہنچی ہے لیکن تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ یہ پشاور میٹرو اس وقت منتظر ہے کہ جہاں باقی منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو رہا ہے وہیں اس کا بھی آڈٹ کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو انگلیاں اٹھیں گی کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…