بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام کیلئے بڑی خوشخبری پی ٹی آئی حکومت کا شاندار اعلان ، بڑا مسئلہ حل کردیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بجلی کی قیمت کم کرنے کیلئے پن بجلی اور سولر سسٹم لانا ہو گا،ترسیل کے نظام کی بہتری سمیت بجلی کے بل نہ دینے کے رواج کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے، قائدایوان سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی سے گفتگو، 100یونٹ میں سے 24یونٹ چوری کر لئے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ میں

قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گردشی قرضے میں سب سے زیادہ حصہ بلوچستان کا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے کہ کوئی بل دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس طریقے سے بجلی بناتے ہیں وہ بہت ہی مہنگی ہے، جس سے ہماری بجلی کی قیمت تو زیادہ ہے ہی مگر ہمار ے لائن لاسز بھی بہت زیادہ ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ ایک سو یونٹ بجلی بھیجتے ہیں تو اس کا 24 فیصد حصہ راستے میں ہی گم ہوجاتا ہے جس کی کوئی وصولی نہیں۔ اس کے علاوہ ترسیل کا نظام بھی بوسیدہ ہوچکا ہے جبکہ بجلی کے بل نہ دینے کا بھی بہت زیادہ رواج ہے، ترسیل کے نظام کی بہتری سمیت بجلی کے بل نہ دینے کے رواج کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پا کستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت نے آئی پی پیز کو ادائیگی کرنے کیلئے بینک سے قرضہ لیا تھا جو آج تک قائم و دائم ہے بلکہ اب اس پر سود بھی چڑھا ہوا ہے، ہمیں بجلی کی قیمت کم کرنے کیلئے پن بجلی اور سولر سسٹم لانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ منصوبہ بنانا ہوگا کہ ہمیں کتنی بجلی چاہئے اور کتنی بجلی ہمارے پاس آئیگی،ترسیل کے نظام کی بہتری سمیت بجلی کے بل نہ دینے کے رواج کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پا کستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت نے آئی پی پیز کو ادائیگی کرنے کیلئے بینک سے قرضہ لیا تھا جو آج تک قائم و دائم ہے بلکہ اب اس پر سود بھی چڑھا ہوا ہے، اس عمل میں صوبوں کو بھی لانا ہوگا کیونکہ صوبے اس میں حصہ ہی نہیں لیتے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…