بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ اجلاس میں ایک بار پھر حکومت کو شرمندگی کا سامنا ، اپوزیشن نے آڑے ہاتھوں لیا،افسوسناک صورتحال

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آئی این پی ) سینیٹ اجلاس میں حکومت کو ایک بار پھر وزراء کی عدم موجودگی پر شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا ، جس پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کی تقریر سننے سے انکار کر دیا ، حماد اظہر بجٹ پر بحث کے دوران بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا جس پر چیئرمین سینیٹ نے حماد اظہر کو بیٹھنے کا کہہ دیا ، جاوید عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سارے ارکان کو وزیر بنا دیا جائے

تاکہ کوئی تو یہاں آئے۔بدھ کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر محمد اکرم کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دینے کے لئے کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھا ، جس پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سارے ارکان کو وزیر بنا دیا جائے تاکہ کوئی تو یہاں آئے ، ہماری حکومت میں وزیروں کی لائن لگی ہوتی تھی ، جس پر قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ علی محمد خان راستے میں 2تین منٹ انتظار کر لیں ، جس پر جاوید عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے کبھی کسی کا انتظار کیا ہے؟ بعد ازاں علی محمد ایوان میں پہنچ گئے اور توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیا ، سینیٹ میں وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اپوزیشن نے ان کی تقریر سننے سے انکار کر دیا ، حماد اظہر بجٹ پر بحث کے دوران بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ آ خر میں بولیں ، ابھی مت بات کریں ، جس پر حماد اظہر نے کہا کہ میرا جواب سن لیں میرے پاس اعدادو شمار ہیں ، یہ اعدادوشمارسے بھاگنا چاہتے ہیں ، ان میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ، تاہم اپوزیشن کے شور کر نے پر چیئرمین سینیٹ نے حماد اظہر کو بیٹھنے کا کہہ دیا ، بجٹ پر بحث کے دوران شیری رحمان نے بھی وزیر خزانہ اسد عمر کے موجود نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ بجٹ پر بحث سننا وزیر خزانہ کا کام ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…