جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

پانی کی قلت، صورتحال انتہائی سنگین ، صرف دیامر بھاشا ڈیم سے کچھ نہیں ہوگا ،ارسا کے انتہائی تشویشناک انکشافات، خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے ملک بھر میں پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے دو بڑے ڈیموں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ارسا کے مطابق ربیع کی فصل کے موسم کا آغاز یکم اکتوبر سے ہو رہا ہے جس کے لیے پانی کی 35 سے 40 فیصد کمی کا امکان ہے۔خالد ادریس رانا نے بتایا کہ ارسا اب اسٹیک ہولڈرز کے تخمینہ کی بنیاد پر پانی کی اوسط فراہمی سے متعلق کام کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ پیر کو مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے تجاویز جمع کروائی جائیں گی

تاکہ صوبوں کو پانی کی فراہمی اور تقسیم کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، تاہم اگر کسی مغربی لہر کے تحت دسمبر اور جنوری کے درمیان بارش ہو جائے تو پانی کی کمی کچھ حد تک پوری ہو جائے گی۔خالد ادریس رانا نے کہا کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے جس سے حکام کے لیے پانی کی مکمل فراہمی کو یقینی بنانا مشکل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی مسلسل کمی اور زمینی پانی کے استعمال نے بھی طویل المدتی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب کینال میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو کسانوں کو فصلوں کو پانی پہنچانے کے لیے ٹیوب ویل کے ذریعے زمین سے پانی نکالنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ کم از کم دو بڑے ڈیموں کی ضرورت ہے ورنہ ملک میں پانی کا مسئلہ ہر سال بڑھتا چلا جائے گا۔ارسا کے اجلاس میں بتایا گیا کہ خریف کے موسم میں ملک بھر میں پانی کی کمی کا تخمینہ 36 فیصد لگایا گیا، تاہم گزشتہ دو ماہ میں ملک بھر میں بارشوں کی وجہ سے پانی کی کمی کم ہو کر 19 فیصد رہ گئی ٗ20 ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ نے پانی کی کمی کا سب سے کم سامنا کیا جو کہ 16 فیصد تھی، جبکہ اس کے پارلیمانی اراکین نے پانی کی کمی اور فصلوں کے نقصان سے متعلق احتجاج بھی کیا تھا

۔پنجاب کو 20 فیصد، خیبر پختونخوا کو 21 فیصد جبکہ بلوچستان کو پانی کی سب سے زیادہ کمی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ 44 فیصد تھی۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ سندھ کو پانی کی کمی کا سب سے کم سامنا رہا جبکہ یہ مسئلہ بلوچستان میں زیادہ دیکھنے میں آیا، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ بلوچستان کے پانی کے ذخائر جزوی طور پر سندھ میں استعمال ہوئے اور اس حوالے سے بلوچستان نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں شکایت بھی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…