جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے 10 سال کی عمر میں قید کیے گئے بچے کو 11 سال بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا،بچے نے کیا جرم کیاتھا؟ اور اتنا عرصہ کیوں جیل میں رہا؟ افسوسناک انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کے الزام میں 10 سال کی عمر میں قید کیے گئے بچے کو 11 سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے تاہم 11 سال قید میں رہنے کے بعد 21 سالہ محمد عدنان کو ٹیوبر کلاسز (ٹی بی) ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالت عظمیٰ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے بچے کی بریت سے متعلق دائر اپیل پر سماعت کی۔

دوران سماعت خاتون وکیل ملکہ صباح اور خواجہ محمد سعید ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے 10سال کے بچے پر 4 من سے زائد چرس کی برآمدگی کا الزام لگایا جبکہ منشیات برآمد کرنے والے تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ منشیات کا مالک مقدمہ میں نامزد ایک ریاض نامی شخص تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے موکل پر منشیات کے نمونے باحفاظت لے کر جانا بھی ثابت نہیں ہوتا جبکہ فارنزک رپورٹ میں بھی یہ بات واضح نہیں ہے۔اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر پنجاب عبدالوحید نے عدالت کو بتایا کہ منشیات کے مقدمے کا 2 سال بعد چالان پیش ہونا بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کی روشنی میں اگر منشیات کے نمونے باحفاظت لے کر جانا ثابت نہ ہو تو ایسی صورت میں ملزم کی بریت کا مقدمہ بنتا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ بچے کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔سماعت کے بعد ملکہ صباح ایڈووکیٹ نے کہا کہ 11 سال قید میں رہنے سے لڑکے کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوچکا ہے اور اسے جیل حکام ہر ہفتے فیصل آباد کے ہسپتال میں علاج کیلئے لے کر جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے لڑکے کو 13 سال کی عمر میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے 24 مارچ 2014 کو بریت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔

خاتون وکیل نے کہا کہ لڑکے کو 10 سال کی عمر میں شیخوپورہ کے علاقے فیروزوالا سے 8 اگست 2007 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ چنگچی میں 4 من سے زائد چرس اور 180 گرام ہیروئن لے کر جارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ بچے کی سزا تقریباپوری ہونیوالی ہے۔ بچے کو 10سال کی عمر میں شیخوپورہ کے علاقہ فیروز والا سے 8اگست 2007 کوگرفتار کیاگیا اورکہاگیا کہ وہ چنگ چی رکشے پر 4من3کلوچرس اور180گرام ہیروئن رکشے پرلے کر جارہاتھاجبکہ دیگرملزمان موقع سے فرارہوگئے تھے۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…