پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پیرول پر رہائی سے قبل اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور شہباز شریف میں تلخ کلامی، شہباز شریف نے ایسا کیا، کیا کہ نواز شریف چیختے چلاتے رہے، افسوسناک انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(سی پی پی)نوازشریف، مریم اور صفدر نے پیرول پررہائی کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اللہ کو یہی منظورتھا۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں موجود مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے پیرول پر رہا ہونے سے انکار کردیا تھا اور ان کے اس فیصلے کی تائید مریم نواز نے بھی کی تھی۔نوازشریف نے پیرول کی درخواست پر دستخط کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا،

ان کا کہنا تھا کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اللہ کو یہی منظور تھا۔اس ساری صورتحال میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے اپنے پارٹی قائد سے پیرول پر رہائی کے لیے پرزوراصرار کیا،انہوں نے نوازشریف کے انکار کے بعد درخواست پر خود دستخط کیے۔ شہباز شریف نے اس موقع پر نواز شریف سے مکالمہ بھی کیا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے،پیرول پر رہائی کی اجازت قانون دیتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وقت گزر گیا تو ساری عمر کا پچھتاوا رہ جائے گا۔دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی نصرت جاوید نے کہا کہ جب شہباز شریف اور میاں نواز شریف کی آپس میں ملاقات ہوئی تو میاں نواز شریف بہت غصے میں تھے اور وہ پیرول پر رہائی نہیں چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ کلثوم نواز کے خاوند اور سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور 13 جولائی سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں جنہیں کلثوم نواز کے انتقال کے باعث خصوصی طور پر رہا کیا گیا ہے۔نور خان ایئر بیس پر گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ ‘وہ بہت تکلیف میں ہیں کہ آخری وقت میں والدہ کے ساتھ نہیں تھیں’۔اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز آب دیدہ ہوگئیں اور کہا کہ ‘والدہ کے انتقال کی خبر کے بعد دن انتہائی تکلیف دہ تھا’۔ ساتھ ہی انہوں نے قوم سے اپیل کہ ان کی والدہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…