ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

پیرول پر رہائی سے قبل اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور شہباز شریف میں تلخ کلامی، شہباز شریف نے ایسا کیا، کیا کہ نواز شریف چیختے چلاتے رہے، افسوسناک انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(سی پی پی)نوازشریف، مریم اور صفدر نے پیرول پررہائی کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اللہ کو یہی منظورتھا۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں موجود مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے پیرول پر رہا ہونے سے انکار کردیا تھا اور ان کے اس فیصلے کی تائید مریم نواز نے بھی کی تھی۔نوازشریف نے پیرول کی درخواست پر دستخط کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا،

ان کا کہنا تھا کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اللہ کو یہی منظور تھا۔اس ساری صورتحال میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے اپنے پارٹی قائد سے پیرول پر رہائی کے لیے پرزوراصرار کیا،انہوں نے نوازشریف کے انکار کے بعد درخواست پر خود دستخط کیے۔ شہباز شریف نے اس موقع پر نواز شریف سے مکالمہ بھی کیا کہ یہ بہت بڑا حادثہ ہے،پیرول پر رہائی کی اجازت قانون دیتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وقت گزر گیا تو ساری عمر کا پچھتاوا رہ جائے گا۔دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی نصرت جاوید نے کہا کہ جب شہباز شریف اور میاں نواز شریف کی آپس میں ملاقات ہوئی تو میاں نواز شریف بہت غصے میں تھے اور وہ پیرول پر رہائی نہیں چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ کلثوم نواز کے خاوند اور سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور 13 جولائی سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں جنہیں کلثوم نواز کے انتقال کے باعث خصوصی طور پر رہا کیا گیا ہے۔نور خان ایئر بیس پر گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ ‘وہ بہت تکلیف میں ہیں کہ آخری وقت میں والدہ کے ساتھ نہیں تھیں’۔اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز آب دیدہ ہوگئیں اور کہا کہ ‘والدہ کے انتقال کی خبر کے بعد دن انتہائی تکلیف دہ تھا’۔ ساتھ ہی انہوں نے قوم سے اپیل کہ ان کی والدہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…