ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

کلثوم!آنکھیں کھولو، بائو جی!!نواز شریف آخری بار کلثوم نواز سے ملاقات کے وقت انہیں بلاتے وقت ’’بائو جی‘‘کیوں کہتے رہے، اس لفظ کے پیچھے کیا کہانی ہے؟شریف خاندان کے انتہائی قریبی عطا الحق قاسمی نےبتا دیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف ادیب ، کالم نگار، مزاح نگار عطا الحق قاسمی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کے بارے میں کچھ لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا انتقال عام حالات میں نہیں ہوا، ان کےشوہر پاکستان کی جیل میں تھے، ان کی صاحبزادی اور داماد بھی جیل کی کوٹھڑیوں میں بند تھے۔ ان کے شوہر میاں نواز شریف اور فیملی کے دیگر افراد جب لندن میں تھے وہ روزانہ صبح اسپتال پہنچتے تھے اور شام کو بیگم صاحبہ سے بات کئے بغیر واپس آ جاتے تھے کہ وہ کوما کی حالت میں

تھیں۔وہ منظر کسی بھی اہل دل کے لئے رلا دینے والا ہے جب آخری دن پاکستان جیل آنے کے لئے میاں نواز شریف اپنی بیگم سے بات کرنے کے لئے کہتے ہیں۔’’ کلثوم، میں بابو جی، کلثوم، میں بابو جی‘‘ مگر وہ اس پر کوئی ریسپانس نہیں دیتیں۔ انڈیا خصوصاً لاہور اور امرتسر کے شہروں میں بیویاں اپنے شوہر کو اور بچے بھی اپنے والد کو ’’بابو جی‘‘ کہا کرتے تھے۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ وہ آخری بار اپنی بیگم کی آواز سن کر اپنی بقیہ زندگی جیل میں گزارنے کے لئے پاکستان چلے آئیں، مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…