منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے پولیس کے نظام میں اصلاحات ،وسیع پیمانے پر تبدیلیاں،اب مقدمہ کے فوری اندراج کے بعد گرفتاری نہیں ہو گی،تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )حکومت کی جانب سے پولیس کے نظام میں اصلاحات کیلئے غوروخوض شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر اقدامات تجویز کئے جائیں گے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پولیس اصلاحات کے لیے جو مجوزہ طریقہ کار وضع کیا جائے گا اس میں پنجاب کے تمام پولیس اسٹیشنز کو کمپوٹرائزڈ کر کے ہر پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب ہوگی ۔

پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے والے افراد کی سب سے پہلے ان کے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے شناخت ہو گی اور اس کے بعد عمارت کے اندر جانے کی وجوہات درج کرانا ہوں گی ۔خواتین کے لیے پولیس اسٹیشن کے کے مرکزی دروازے پر خاتون پولیس اہلکار بھی تعینات رہے گی جو خواتین سے تمام ریکارڈ حاصل کر کے اسے آن لائن درج کر ے گی ۔مقدمات کے اندراج کے حوالے سے جو طریق کار وضع کیا جا رہا ہے اس میں سب سے پہلے پولیس اسٹیشن میں موصول ہونے والی درخواست پر مقدمہ درج ہو گا ۔جس کے بعد تفتیشی افسر کسی بھی شخص جس کے خلاف مقدمہ درج ہو گا اسے گرفتار نہیں کرے گا بلکہ پہلے مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش ہو گی بعد ازاں علاقہ مجسٹریٹ سے باقاعدہ وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ گھروں کی تلاشی کے لیے باقاعدہ طور پر سرچ وارنٹ کو لازم قرار دیا جا رہا ہے کسی بھی فرضی وقوعہ جات کے مقدمہ میں کسی بے گناہ کی بعد از تفتیش گرفتاری پر وہی جرم مذکورہ تفتیشی افسر پر لگے گا ۔اسلحہ ، منشیات برآمدگی کی فرضی کارگزاری دکھانے والے پولیس ملازم کو اسی فرضی مقدمہ میں چالان کیا جائے گا جبکہ مقدمات کی تفتیش کو 14دن کے اندر مکمل کرنا لازم قرار دیا جا رہا ہے ۔پولیس ایکٹ پر درست طریقے سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر پولیس اسٹیشن میں ایک سینئر انسپکٹر اور اس کے نیچے دوسب انسپکٹرز بطور ایس ایچ او تعینات کیے جائیں گے جو 8/8گھنٹے اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے ۔رپورٹ کے مطابق پولیس اسٹیشنز کے مرکزی دروازوں پر بائیو میٹرک تصدیق کی وجہ سے عادی درخواست گزاروں اور تھانہ پریکٹس کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہو گی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…