بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پروٹوکول پر پابندی کے باوجود ’’پروٹوکول افسران‘‘ کی موجیں ہی موجیں،قومی خزانے کو کس طرح نقصان پہنچایاجارہاہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم ہاؤس و آفس سے پروٹوکول کے خاتمہ کے برعکس وزارت پیٹرولیم و ذیلی اداروں میں پروٹوکول کے کئی افسران تعینات ہیں جو اب بھی وزارت کے اداروں کے سربراہوں کے پروٹوکول اور آؤ بھگت پر مامور ہیں۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی وزارتوں سے پروٹوکول افسران کو فارغ کرنے کا عزم کیا تھا

اور مثال کے طور پر وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ سے پروٹوکول کا مکمل خاتمہ کردیا لیکن وزارت پیٹرولیم کے آفس کے علاوہ او جی ڈی سی ایل‘ سوئی نادرن گیس ‘ سوئی سدرن گیس ‘ پی ایس او‘ منرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اوگرا وغیرہ میں اب بھی پروٹوکول کے نام پر کئی افسران موجود ہیں اور پروٹوکول کے نام پر قومی خزانہ پر بوجھ ہیں ان اداروں کے سربراہوں نے پروٹوکول کے نام پر کئی من پسند افراد کو بھرتی کررکھا ہے اور یہ لوگ افسران کی خدمت گزاری اور ذاتی کاموں پر مامور ہیں ۔ پی پی ایل کے افسران نے اسلام آابد میں باقاعدہ ایک آفس بنا رکھا ہے جو پروٹوکول کیلئے تعینات اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ سوئی نادرن کے ایم ڈی اے نے بھی رپوٹوکول افسر رکھا ہوا ہے اس کے ماتحت کئی افسران موجود ہیں۔ عمران خان کی پالیسیوں کے برعکس ان اداروں میں پروٹوکول کے نام پر بے کار لوگوں کی بھرمار ہے جو صرف افسران کی خوشامد اور ذاتی نوکری کرنے کرکے مال لگا رہے ہیں جبکہ پروٹوکول کے نام پر اہلکارسرکاری گاڑیوں کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس و آفس سے پروٹوکول کے خاتمہ کے برعکس وزارت پیٹرولیم و ذیلی اداروں میں پروٹوکول کے کئی افسران تعینات ہیں جو اب بھی وزارت کے اداروں کے سربراہوں کے پروٹوکول اور آؤ بھگت پر مامور ہیں۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی وزارتوں سے پروٹوکول افسران کو فارغ کرنے کا عزم کیا تھا اور مثال کے طور پر وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ سے پروٹوکول کا مکمل خاتمہ کردیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…