بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

مخدوم فیصل کی شکست کی وجہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور منیجر کی کرپشن قرار، ملک اقبال ا ور جی ایم لکڑھارا کس طرح مال بناتے رہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جولائی  2018 |

جھنگ (آن لائن) سابق وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات کی حالیہ انتخابات میں شکست کی وجہ ان ک پرائیویٹ سیکرٹری اور منیجر کی کرپشن رار دی گئی ہے۔ مخدوم فیصل کے پرائیویت سیکرٹری محمد اقبال نے کرپشن اور بدیانتی اور اقرباپروری کی انتہا کرکے ذاتی مفادات تو حاصل کرلئے لیکن جھنگ کے غریب عوام کی ہر دلعزیز لیڈر کی شکست کی وجہ بن گئے۔ عام انتخابات کے حلقہ این اے 114 میں صرف 540 ووٹوں سے شکست کی ابتدائی تحقیقات میں

یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک اقبال اور منیجر جی ایم دھرکان نے فیصل صالح حیات کے پیڈ پر درجنوں افراد کو سرکاری ملازمتیں دیں اور کروڑوں روپے کمائے تھے۔ ملک اقبال کی کرپشن کے خلاف نیب حکام بھی تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں۔ جبکہ منیجر جی ایم نے لکھڑا سے ترقی کرکے کروڑوں مالیت کی جائیدادیں بنائی ہیں۔ مخدوم صاحب جب وزیر ہاؤسنگ تھے تو ملک اقبال نے آٹھ رشتہ داروں کو اسسٹنٹ ڈائریکٹرز بھرتی کیا جبکہ بھاری رشوت لے کر علاقہ کے امراء گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد بھرتی کئے جو جعلی ڈگری کی بنا پر آدھر سے زیادہ نکال دیئے گئے ہیں عام انتخابات 2018 ء کے نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوا ہے کہ جن دیہاتوں کے دچوہدریوں کے بچوں کو نوکریاں دی گئیں وہاں سے مخدوم صاحب نے یا تو کم ووٹ لئے یا پولنگ اسٹیشن سے ہارے ہیں کیونکہ امراء کے بچوں کو نوکریاں دینے پر غرباء طبقہ نے احتجاج کے طور پر مخدوم کے مخالف ووٹ دیئے ہیں یونین کونسل نڈوہ گو‘ دھوری والا‘ دوآبہ‘ شاجیونہ‘ علی پور ‘ کری والا ‘ رسول پور سے مخدوم کی کامیابی کا تناسب کم ہوا ہے جبکہ انہی علاقوں میں مخدوم فیصل بھاری اکثریت سے بڑے مارجن سے کامیاب ہوتے تھے ۔ شاہ جیونہ شہر کا مارجن کام ہوا ہے

مخدوم فیصل کا ذاتی منیجر عام لکڑھارا تھا لیکن رشوت کھانے کے بعد ان کی جائیدادیں کروڑوں روپے میں ہیں فیصل کے نام پر کرپشن کرنے والوں میں مجرمانہ ذہنیت کا مالک شیر بغلیرا بھی شامل ہے جس نے دس ہزار لے کر فی بجلی کا کھمبا لگوایا تھا فیصل صالح حیات کو اب ان کالی بھیڑوں سے جان چھڑانا پڑے گی ورنہ سیاست سمندر برد ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…