پیر‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2025 

ہمارے ووٹ اب ان امیدواروں کیلئے ہیں؟ ن لیگ کی اتحادی جمعیت اہلحدیث پاکستان کا نواز شریف کو بڑا جھٹکا ،دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 5  جولائی  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (نیوز ڈیسک)امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور ایم ایم اے کے نائب صدرسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے 2018ء کے انتخابات کے حوالے سے پارٹی پالیسی کا اعلان کردیا ۔ مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ سے جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے کارکنان اورووٹرز سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے ٹکٹوں کی تقسیم پر ہمارے ساتھ نا انصافی کا

مظاہرہ کیا لہٰذا آپ کی اولین ترجیح پارٹی امیدوار ہونے چاہئیں ۔ پھر ایم ایم اے اور ن لیگ کے دیگر امیدوار۔ پروفیسر ساجدمیر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ہماری حق تلفی کی ہے اور حق دینے میں شدید کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے ۔ مگر ہم ایک جمہوری اور شورائی جماعت ہیں ہماری مجلس شوری مسلم لیگ (ن) کو دیگر جماعتوں کی نسبت اسلام اور پاکستانیت کے حوالے سے قریب سمجھتی ہے لہٰذا ہم ان سے اتحاد توڑ نہیںسکتے۔ ہم بطور حلیف جماعت مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیتے رہیں گے ۔ دینی جماعت ہونے کے ناتے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایم ایم اے کے ساتھ 2002 میں بھی ہمارا انتخابی اتحاد ہوا تھا اور آج 2018 ء میں بھی انتخابی اتحاد ہے ۔ مگر ماضی کی نسبت اس بار ایم ایم اے نے بھی ہمارے ساتھ ناانصافی کی جتنا ہمارا حق بنتا ہے اس قدر حصہ نہیں دیا۔ بدقسمتی سے ایم ایم اے کی دو سرکردہ جماعتوں نے ہمارے ساتھ ایثار تو دور کی کی بات انصاف سے بھی کام نہیں لیا ۔مگر ملکی مفاد اور جمہوریت کے استحکام کی خاطر ہمار اتحاد ایم ایم اے سے بھی برقرار رہے گا ۔ ہمارے قومی اورصوبائی امیدواروں کی اکثریت ایم ایم اے کے نشان پر الیکشن لڑ رہی ہے تاہم بعض حلقوں میں ہمارے امیدوار آزاد حیثیت سے بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ہماری جماعت ہمارے کارکنان اور ملک بھر سے اہل حدیث ووٹرز کی پہلی ترجیح ہمارے امیدوار مولانا عبدالرشید حجازی

پی پی 102 فیصل آباد، حافظ ابتسام الہی ظہیر این اے 138 قصور، حافظ بابر فاروق رحیمی۔ پی پی 145 لاہور، عبدالرحیم گجر۔ پی پی 215 ملتان،مولانا فض الرحمن مدنی این اے 15 ایبٹ آباد،قاری حنیف بھٹی این اے107 فیصل آباد،ملک ذوالقرنین ڈوگر آزاد امیدوار پی پی 133 ننکانہ،اسامہ عبدالکریم آزاد امیدوار پی پی 290 ڈی جی خاں،ڈاکٹر عبدالرحمن پن پی پی 154 گوجرانوالہ اور مولانا عبدالغنی ضامرانی، پی بی 45 بلوچستان ہوں گے ۔ جہاں ایم ایم اے کے مضبوط امیدوارہوں وہاں انہیں ووٹ ڈالیں اور جہاں (ن)لیگ کے امیدوار مضبوط نظر آئیں وہاں انہیں ووٹ دیں ۔

موضوعات:



کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…