منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

زعیم قادری صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں نیب کے رو برو پیش ،کمپنی میں بیوی اور بھائی کیا کچھ کرتے رہے؟ حیرت انگیز اعترافات

datetime 28  جون‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )سابق صوبائی وزیر زعیم حسین قادری صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں نیب کے رو برو پیش ہو گئے او رمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ بتایا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے زعیم قادری ، ان کی اہلیہ اور بھائی کے صاف پانی کمپنی میں کردار سے متعلق سوالات پوچھے گئے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زعیم قادری نے کہا کہ نیب ٹیم کی جانب سے بڑے عزت و احترام سے سوالات پوچھے گئے جن کے میں نے تفصیلی جوابات دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کاحکم آنے کے بعد ان کی اہلیہ مستعفی ہو گئی تھیں جبکہ وہ کسی بھی خریداری یا فیصلے میں شامل نہیں تھیں۔ جہاں تک میرے بھائی کی بات ہے تو وہ بطور کنسلٹنٹ کام کرتے تھے اور انہوں نے یہ فرائض اعزازی طو رپر سر انجام دئیے ۔ انہیں صاف پانی کمپنی کے تحت کوئی تنخواہ ،کوئی گاڑی یا دفتر حاصل نہیں تھا ۔ انہوں نے ٹھیکے دینے کیلئے سفارش کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہو جائیں تو میں سیاست کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاست میں سچ بولنے کا قائل ہوں کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے مزید سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ میرے ساتھ پی ٹی آئی والوں نے باضابطہ کوئی رابطہ نہیں کیا صرف ٹی وی پر عبد العلیم خان کے حوالے سے بیان سنا تھا اور میں اس کیلئے ان کا مشکور ہوں ۔ انہوں نے چوہدری نثار سے رابطے بارے سوال کے جواب میں کہا کہ نہ انہوں نے کوئی رابطہ کیا اور نہ میری جانب سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ اٹل ہے اور میں پنجاب اور لاہور کے زندہ ہونے کی جنگ لڑ رہا ہوں ۔ کیونکہ یہاں کچھ لوگوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ لاہور ان کی جاگیر ہے اور پنجاب کے لوگ ان کے مقید ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر نہ صرف مجھے لاہور ، پنجاب ، پاکستان بلکہ بیرون ممالک پاکستانیوں کی جانب سے بھی پذیرائی مل رہی ہے اور پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں نے کہا ہے کہ ہم تمہارے سپورٹر زہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس طاقت اور پیسہ نہیں کہ میں زور زبردستی کروں ۔25جولائی کو لاہور کے لوگ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں گے اور ثابت کریں گے کہ لاہور ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کا قبرستان نہیں ہے ۔میں لاہور کی لڑائی لڑوں گا اگر میں ہار گیا تو بھی میری جیت ہے اور اگر میں جیت گیا تو یہ بڑی کامیابی ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…