بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

یہ تو ساری بدمعاشیاں چل رہی ہیں۔۔اب سندھ میں کوئی یہ کام نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ نے بڑی پابندی عائد کر دی

datetime 19  جون‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے سندھ میں صنعتی اراضی کی بغیر نیلامی خرید پر پابندی عائد کردی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے ہیں کہ قبضہ مافیا ملک کھا گئے‘ ریاست کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے‘ زمینوں کی لیز اور الاٹمنٹ کی شفافیت کو یقینی بنائیں گے ‘زمینوں کی بندر بانٹ کی گئی اور بغیر نیلامی کے پلاٹ بنائے گئے‘

سندھ میں کس قانون کے تحت سرکاری زمینیں الاٹ کی جارہی ہیں؟ یہ تو ساری بدمعاشیاں چل رہی ہیں، میں نے کالونی لاء کو تبدیل کیا، گھر بیٹھے درخواست پر پلاٹ الاٹ اور مرضی کے 4 افراد کی کمیٹی بن جاتی ہے، ہم کرپشن کے دروازے نہیں کھولنے دیں گی۔ منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سندھ میں سرکاری اراضی کی لیز اور الاٹمنٹ کے معاملے پر پولٹری فارمز اور دیگر صنعتی اراضی کی لیز کیلئے 40 سے زائد درخواستوں کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قبضہ مافیا ملک کھا گئے، ریاست کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے، زمینوں کی لیز اور الاٹمنٹ کی شفافیت کو یقینی بنائیں گے اور قانون کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زمینوں کی بندر بانٹ کی گئی اور بغیر نیلامی کے پلاٹ بنائے گئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ونڈ پاور پروجیکٹ کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ پڑھیں ایک صفحے پر ناٹ ٹو کرپشن لکھا ہے، بس اوپر ناٹ ٹو کرپشن مگر نیچے سب کرپشن ہی کرپشن ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ سندھ میں کس قانون کے تحت سرکاری زمینیں الاٹ کی جارہی ہیں؟ یہ تو ساری بدمعاشیاں چل رہی ہیں، میں نے کالونی لاء کو تبدیل کیا، گھر بیٹھے درخواست پر پلاٹ الاٹ اور مرضی کے 4 افراد کی

کمیٹی بن جاتی ہے، ہم کرپشن کے دروازے نہیں کھولنے دیں گی۔چیف جسٹس نے بغیر نیلامی کے زمین لینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ جس نے زمین لینی ہے کھلے عام نیلامی میں جائے، کسی کو بغیر نیلامی زمین نہیں لینے دیں گے۔عدلت نے صنعتی اراضی سے متعلق درخواستوں کی سماعت (آج)تک ملتوی کردی اور وکلا کو تیاری کرکے آنے کی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…