جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی وی کو کس کی طرح ہونا چاہیے؟پی ٹی وی کو آزاد کرنے لگا ہوں،سرکاری چینلز کو آزاد کرنے کے لیے چیف جسٹس نے کیا حکم دیا؟

datetime 8  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے حکم پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی ( پیمرا) آرڈیننس میں تبدیلی کے بعد عدالت نے میڈیا کمیشن کیس نمٹا دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں میڈیا کمیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات اور صحافتی تنظیموں کے نمائندے پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ نگراں حکومت نے عدالتی حکم پر پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 5 اور 6 میں ترمیم کردی ہے اور صدر مملکت نے اس حوالے سے آرڈیننس بھی جاری کردیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کسی ٹی وی چینل کو براہ راست بند نہیں کرسکے گی اور یہ اختیار پیمرا کے پاس ہوگا، اس کے علاوہ آرڈیننس کے مطابق پیمرا ارکان کی تعداد 11 سے کم کرکے 8 کردی گئی ہے۔سماعت کے دوران سیکریٹری اطلاعات نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی ( پیمرا) کی تقرری روک رکھی ہے جس کی وجہ سے چیئرمین پیمرا کی تقرری نہیں ہوسکی۔سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن کے معاملے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن ( بی بی سی ) اور کیبل نیوز نیٹ ورک ( سی این این ) کی طرح ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں پی ٹی وی کو آزاد کرنے لگا ہوں، سرکاری چینلز کو آزاد کرانے کیلئے درخواست لے کر آئیں۔بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار حامد میر اور سینئر وکیل کی استدعاء پر میڈیا کمیشن کیس نمٹا دیا۔سماعت کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر لئے گئے ازخود نوٹس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تمام ادراے عید سے قبل ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ لاہور آجائیں، کیس کی سماعت اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…