ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ختم نبوت قانون میں ترمیم اس حکومت کا بدترین کام ،چوروں کے آنے سے پارلیمنٹ کی توہین ہوئی ہے، شہریار آفریدی

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم اس حکومت کا بدترین کام ہے، چوروں کے آنے سے پارلیمنٹ کی توہین ہوئی ہے، عمران خان پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جو پاکستان کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں، حکومت اپنے5سالوں کے دوران صحت، تعلیم اور معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔وہ جمعرات کو

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیس سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت اپنے5سالوں کے دوران مکمل طور پا ناکام رہی ہے۔ حکومت نے صحت، تعلیم اور اکانومی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ میں عمران خان اور عوام کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے عوامی خدمت کرنے کا موقع دیا۔ ان5سالوں کے دوران عوام مسلم لیگ(ن) کا اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ انہوں نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی اور بھارت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کے ادارون کو تباہ اور بدنام کیا۔ اس پارلیمنٹ میں چوروں کے آنے سے پارلیمنٹ کی توہین ہوئی ہے۔ قوم اب بھی نا امید نہیں ہے، اس نا امیدی کے دور میں بھی عمران خان عوام کی واحد امید ہیں اور عمران خان پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جو پاکستان کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا 90فیصد پانی ضائع ہو رہا لیکن کوئی قومی سوچ رکھنے والا لیڈر حکومت میں نہیں ہے جو اس کا تدارک کرے۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ ایسے نمائندوں کا آئندہ انتخابات میں چناؤ کریں جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…