بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ، میں نے آرمی چیف سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان ۔۔۔! جنرل باجوہ نے کیا جواب دیا؟ مولانافضل الرحمان کے انکشافات

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے، ابھی ہم مشرقی طرف سے ایل او سی کو طے نہیں کر سکے ہیں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے، فاٹا سے کے پی کے اسمبلی میں نشستیں مختص نہ کی جائیں، البتہ سپریم کورٹ اور

پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بات کی تھی، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا، پی پی پی اور جماعت اسلامی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کی عملداری نہیں ہونی چاہیے، ایک طرف تو انضمام کی حمایت کی اور دوسری طرف پولیس کی عملداری کو روکنے کیلئے پریس کانفرنس کی جا رہی ہے۔منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا سے کے پی کے اسمبلی میں نشستیں مختص نہ کی جائیں، البتہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بات کی تھی، ہم نے اس بات پر بھی اتفاق رائے نہیں کیا تھا، غیر متوقع طور پر ایک ایسا بل جس میں پاٹا اور بلوچستان کے علاقوں کو شامل کیا گیا اور وہاں کے عوام کے تحفظات دور کئے بغیر بل پاس کیا گیا، پاٹا سے عوامی نمائندوں کی اس ترمیم کی حمایت کرنے پر وہاں کے عوام اپنے نمائندوں کی اس ترمیم کی حمایت کرنے پر وہاں کے عوام اپنے نمائندوں کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، بجائے اپنے تحفظات کو ترمیم کی صورت میں شامل کرنے کے وہ ترمیم کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا سے ایف سی آر کا قانون ختم ہو گیا ہے مگر نئے نظام نے اس کی جگہ نہیں لی، اس سے خلاء پیدا ہو گیا ہے، جس طرح 1947میں 1892-93کے معاہدات یکسر ختم ہو گئے اور فاٹا کا علاقہ، علاقہ غیر کہلانے لگا اور

قائد اعظم کو قبائلی علاقوں کے مشران سے دوبارہ معاہدہ کرنا پڑا، اس پیکج کے ساتھ جو سابقہ انگریز دور سے چلے آرہے تھے اس کے بعد پھر فاٹا کا پاکستان سے الحاق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان کو 70سال بعد ادراک ہو گیا کہ قائداعظم غلط تھے اور اب یہ لوگ فاٹا کے معاملے میں صحیح سوچ رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے تذبذب کا عالم یہ ہے کہ جمرود نے پی پی پی اور جماعت اسلامی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کی عملداری نہیں ہونی چاہیے، ایک طرف تو

انضمام کی حمایت کی اور دوسری طرف پولیس کی عملداری کو روکنے کیلئے پریس کانفرنس کی جا رہی ہے، ان کو خود بھی معلوم نہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے اس سے کمایا ہے یا گنوایا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں خو خطرات دیکھ رہا تھا اس سے چشم پوشی نہیں کر سکتا تھا، میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم کی موجودگی میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے، ابھی ہم مشرقی طرف سے ایل او سی کو طے نہیں کر سکے ہیں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ

ہمارے لئے مشکلات پیدا کر دے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ نے کہا کہ فاٹا بل پاس ہونے کے 24گھنٹے کے اندر افغانستان کا رد عمل آیا اور انہوں نے باضابطہ طور پر اپنا رد عمل اسلام آباد میں نوٹ کرایا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ فاٹا انضمام نہیں ہو گا، رواج ایکٹ پر کارروائی روک دی جائے گی، فاٹا کے عوام کے تحفظات کا خیال نہیں رکھا گیا، فاٹا انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم ہو چکی ہے، نئے نظام کی وجہ سے خلاء پیدا ہو گیا ہے، مقامی لوگوں کے تحفظات دور کئے بغیر بل پاس کیا گیا، فاٹا کے معاملے پر ہم سے اتفاق رائے نہیں کیا گیا، زمینی حقائق وہی ہیں جن کا میں ذکر کرتا آرہا ہوں، لوگ عوامی نمائندوں سے جواب طلب کر رہے ہیں۔(اح)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…