ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان نے افغان ٹرانزٹ کے غلط استعمال پر قید و جرمانے کی سزاؤں کا اعلان کردیا،سامان اور سامان لے جانیوالی گاڑی ضبط کرلی جائے گی،تفصیلات جاری

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال میں ملوث تاجروں پر بھاری جرمانے اور7 سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون نافذ کردیا ہے جبکہ غیر قانونی اشیا کی ترسیل میں استعمال ہونیوالی گاڑیاں ضبط کرکے اشیا کی مالیت سے10 گنا زیادہ جرمانے عائد کیے جائیں گے۔فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے کسٹمزایکٹ 1969 میں کی جانے والی ترامیم نافذ کردی گئیں۔اس ضمن میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ

فنانس ایکٹ کے ذریعے کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 156 کے پارٹ بی میں شامل کی جانے والی والی نئی کلاز 63(i) میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی گاڑی میں ٹرانسشپمنٹ کیلیے لوڈکیا ہوا سامان اپنے اصل مقام پر پہنچنے کے بجائے راستے میں کسی دوسری جگہ اتارا جاتا ہے اوروہ پکڑا جاتاہے تو وہ سامان اور سامان لے جانیوالی گاڑی ضبط کرلی جائے گی۔اسی طرح اگر وہ سامان ممنوعہ یا پلفرڈ ہوگا تو اس صورت میں بھی سامان ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ درآمد کنندہ، نگران اور بونڈڈ کیریئر کیخلاف کارروائی ہوگی اور گاڑی وسامان ضبط کر کے ضبط کی جانے والی اشیا کی مالیت سے10گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائیگا اور مزید سزا کیلیے اسپیشل جج کے سامنے کیس چلایا جائیگا۔ اس کیس میں7سال تک سزا دی جاسکے گی۔دستاویز میں مزیدکہا گیاکہ اگر اشیا کی درآمد کیلیے سامان کی ٹرانسشپمنٹ کیلیے ٹرانسشپمنٹ رولز کی خلاف ورزی کی جائے گی تو اس صورت میں بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کے تحت رولز کی خلاف ورزی کے مرتکب شخص، ان لینڈ کیریئر اور نگران پر5 لاکھ روپے تک جرمانہ یا درآمدی سامان پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مالیت سے 3 گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…