بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

نگران وزیراعظم کون ہوگا؟عبداللہ حسین ہارون، ڈاکٹر شمشاد اختر یا ملیحہ لودھی ؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) پیپلزپارٹی نے سابق چیئر مین پی سی بی ذکاء اشرف اور امریکہ میں سابق سفیر جلیل عباسی جیلانی کا نام فائنل کرکے وزیراعظم کو دے دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری سے متعلق کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں ٗسید خورشید شاہ نے کہاکہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا اعلان (آج) منگل کو کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعظم کیلئے متفقہ نام پر اتفاق کرلیا گیا ہے

اور اب کابینہ پر مشاورت شروع کر دی گئی ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم کی تقرری کیلئے مختلف نام زیر غور ہیں جن پر قیاس آرائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم کیلئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب عبداللہ حسین ہارون، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی کا نام بھی زیر گردش ہے جبکہ عبداللہ حسین ہارون کو سب سے مضبوط امیدوار خیال کیاجارہاہے۔ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کے نام بھی بطور نگراں وزیراعظم زیر غور ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ نگراں وزیراعظم کی دوڑ میں ڈاکٹر شمشاد اختر اور ملیحہ لودھی سب سے آگے ہیں ٗ ڈاکٹر شمشاد اخترکے بطور نگراں وزیراعظم بننے پر ملیحہ لودھی کے وزیر خارجہ بننے کا امکان ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی نے نگراں وزیراعظم کے لیے سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکاء اشرف اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی کے نام فائنل کرلیے ہیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نگراں وزیراعظم کیلئے تین ناموں پر غور کیا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی یہی دونوں نام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو دئیے ہیں۔

آصف زرداری نے ذکاء اشرف اور جلیل عباس کو الگ الگ ٹیلی فون بھی کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ محنت اور ایمانداری کی بنیاد پر ان کے نام نگراں وزیراعظم کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔آصف زرداری نے امید کا اظہار کیا کہ آپ کی زیر نگرانی انتخابات ہوئے تو کسی کو شکایت نہیں ہوگی۔نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے نگراں وزیراعظم کیلئے 3 نام دیئے گئے تاہم تیسرے امیدوار کا نام سامنے نہیں آسکا۔یاد رہے کہ ذکاء اشرف 1988 سے 1990 تک وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر رہے ہیں

جب کہ وہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔علاوہ ازیں ذکاء اشرف نے پیپلز پارٹی کی سی ای سی سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا ہیکہ استعفیٰ 10 روز پہلے آصف زرداری کے کہنے پر دیا، استعفے کے بعد نگراں وزیر اعظم کیلئے نام تجویز کیا گیا۔ذکاء اشرف اکتوبر 2011 سے فروری 2014 تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔جلیل عباس جیلانی سابق سفارت کار ہیں جنہوں نے 2013 سے 2017 تک امریکا میں پاکستان کے 22ویں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔اس سے قبل انہوں نے مارچ 2012 سے دسمبر 2013 تک سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دی ہیں۔جلیل عباس جیلانی 1989 سے 1992 تک وزیراعظم آفس میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور وہ 1999 سے 2003 تک بھارت میں ڈپٹی ہائی کمشنر بھی تعینات رہ چکے ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…