جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستیں اب 124سے بڑھ کر کتنی ہوجائیں گی؟،فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی سے متعلق 30 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی سے متعلق 30 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں ٗآئینی ترمیم کے بل کی حاصل ہونے والی کاپی کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 کی ذیلی دفعہ میں ایک میں ترمیم کی جائے گی ٗبل کے مطابق ترمیم کے تحت صوبائی اسمبلی کے پی کے میں فاٹا کو نمائندگی دی جائے گی ٗ آئینی ترمیم کے تحت کے پی کے اسمبلی کی نشستوں میں تبدیلی ہوگی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستیں 124 سے بڑھا کر 147 کردی جائیں گی، جنرل نشستوں کو 99 سے

بڑھا کر 117 کیا جائے گا، خواتین کی نشستیں 22 سے بڑھا کر 26 کی جائیں گی ٗغیرمسلم نشستیں 3 سے بڑھا کر 4 ہوں گی۔بل کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 میں 1 اے کا اضافہ بھی کیا جائے گا، اضافی ذیلی دفعہ کے ذریعے فاٹا کو صوبائی اسمبلی کے پی میں 18 جنرل نشستیں ملیں گی۔فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں 4 خواتین اور ایک غیرمسلم نشست بھی ملے گی، قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12 نشستیں کے پی کے میں ضم ہوجائیں گی، جس کے بعد خیبر پختونخوا کی مجموعی نشستیں 48 سے بڑھ کر60 ہوجائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…