جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’وہ شخص جس نے خون دیکر24لاکھ بچوں کی جان بچائی ‘‘ اس کے خون میں ایسا کیاخاص ہے کہ جو دنیا میں کسی اور کے خون میں نہیں؟ جانئے

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی خون کی اقسام ہیں اور ماہرین طب نے اپنے خواص کے اعتبار سے انہیں مختلف اقسام میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اے نیگیٹو، اے پازیٹو، بی نیگیٹو، بی پازیٹو، او نیگیٹو، او پازیٹو۔ انسانی خون کا عطیہ ڈاکٹرز مریض کی جان بچانے کیلئے حاصل کرتے ہیں مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ دنیا میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جو مسلسل کئی دہائوں

سے اپنا خون عطیہ کر رہا ہے اور اس کے خون کی بدولت 24لاکھ بچوں کی جان بچائی جا چکی ہے۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق اس 81سالہ شخص کا نام جیمز ہیریسن ہے جس کے خون میں ایک غیرمعمولی اینٹی باڈی موجود ہے جو ریسس (Rhesus)نامی بیماری میں مبتلا بچوں کی زندگی بچانے والی ادویات میں استعمال ہوتی ہے. جیمز کئی دہائیوں سے اپنا خون عطیہ کر رہا ہے جس سے یہ دوائی بنائی جاتی ہے اور مریض بچوں کو دی جاتی ہے. اس کے خون سے بننے والی اس دوائی سے اب تک 24لاکھ بچوں کی زندگی بچائی جا چکی ہے.آسٹریلیا میں جیمز ہیریسن کو ایک ہیرو کا درجہ حاصل ہے.وہ پچھلی 6دہائیوں سے مسلسل اپنے دائیں ہاتھ سے بلڈ پلازما عطیہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ انہیں ’سونے کے بازو والا شخص‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں. انہوں نے 1960ءمیں ڈاکٹروں کے ساتھ مل کراپنے خون میں موجود اینٹی باڈیز سے انجکشن تیار کرنے کا کام شروع کیا تھا. اس انجکشن کو ’اینٹی ڈی انجکشن کا نام دیا گیا. یہ ٹیکہ خون کے نیگیٹو گروپ سے تعلق رکھنے والی حاملہ خواتین کے جسم میں دوران حمل آر ایچ ڈی اینٹی باڈیز پیدا ہونے سے روکنا ہے. ایسی ماں کے پیٹ میں اگر پازیٹو بلڈ گروپ والا بچہ پرورش پا رہا ہو تو یہ آر ایچ ڈی اینٹی باڈیز اسے کے خون کے خلیات کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہیں.

جیمز کا کہنا تھا کہ ”14سال کی عمر میں میرا پھیپھڑے کا آپریشن ہوا تھا، آپریشن کے بعد میرے والد نے مجھے بتایا کہ میری جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے مجھے 13لیٹر خون دیا، یہ تمام خون نامعلوم افراد کی طرف سے عطیہ کیا گیا تھا. میں نے اسی روز عہد کر لیا تھا کہ میں بھی زندگی بھر خون عطیہ کرتا رہوں گا.“رپورٹ کے مطابق جیمز اب تک ایک ہزار سے زائد بار خون دے چکے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ آج بھی وہ اپنے جسم میں سوئی لگتی نہیں دیکھ سکتے. جب ان کے جسم میں سوئی داخل کی جانے لگتی ہے تو وہ منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…