جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پارلیمنٹ کی لفٹ کی مرمت،سپیکر قومی اسمبلی نے کتنے لاکھ کی منظوری دیدی؟جان کر آپ کے ہوش اڑ جائینگے

datetime 15  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) مالی سال کے اختتام سے قبل پارلیمنٹ کی بیوروکریسی نے بھی پارلیمنٹ کی لفٹ کی مرمت کے نام پر 75 لاکھ روپے سے زائد قومی خزانہ سے نکالنے کا ارادہ کر لیا ہے ۔ لفٹ آپریٹرز کی وردیوں کے نام پر بھی 5 لاکھ روپے بھی قومی خزانہ سے نکالے جائیں گے ۔حاصل کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے ایئرکنڈیشن کی مرمت کے نام پر افسران نے سپیکر ایاز صادق کی منظوری سے 36 لاکھ روپے

فنڈز منظور کرائے ہیں جو مالی سال کے اختتام سے قبل خزانہ سے حاصل کر لئے جائیں گے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے ایلی ویٹر کی مرمت کے نام پر 17 لاکھ روپے قومی خزانہ سے حاصل کر لئے جائیں گے۔ جس کی منطوری سپیکر ایاز صادق نے دے دی ہے۔ افسران نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بجلی کی تاروں کے علاوہ الیکٹرک سامان کی خریداری پر 9 لاکھ 87 ہزار روپے کا بل تیار کر کے منظور کرا لیا ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں نئے ایل ای ڈی ٹی وی سیٹ کی خریداری کے لئے 9 لاکھ روپے کی منظوری حاصل کر لی ہے ۔ یہ ٹی وی سیٹ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران کے تمام کمروں میں نصب کئے جائیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں لفٹ آپریٹر کی یونیفارم کے نام پر بھی 5 لاکھ روپے فنڈز منطور کئے گئے ہیں ۔ یہ تمام فنڈز مالی سال کے اختتام سے قبل افسران وزارت خزانہ سے حاصل کر لیں گے ۔ سیکر قومی اسمبلی نے اس 75 لاکھ روپے کے فنڈز کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…