بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

افغان تاجروں نے پاکستان کو نئے طریقے سے نقصان پہنچانا شروع کردیا، ڈالر کی اسمگلنگ شروع، روزانہ کتنے کروڑ ڈالر افغانستان لے جائے جارہے ہیں؟ چونکادینے والے انکشافات

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں امریکی ڈالر ودیگرغیرملکی کرنسیوں کی آمد پر متعلقہ اداروں اور ریگولیٹرکی ڈیکلریشن کے بغیرقبول نہ کرنے کے باعث افغان تاجروں کا دباؤ پاکستانی اوپن کرنسی مارکیٹ پر بڑھ گیا ہے۔افغان تاجر اپنی درآمدات کیلیے کھولے جانے والے لیٹر آف کریڈٹ کیلیے پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ کا رخ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان سے افغانستان کیلیے 9 مختلف کراسنگ پوائنٹس سے آنے جانے والے افغان باشندوں کے ذریعے ڈالر کی اسمگلنگ شروع ہوگئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سے صرف طورخم سرحد کے ذریعے ایک محتاط اندازے کے مطابق یومیہ 15 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے جبکہ دیگر8 کراسنگ پوائنٹس سے تقریبا30 سے40 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے حال ہی میں ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک کو اس ضمن میں تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سے یومیہ تقریباڈیڑھ کروڑ سے2.5 کروڑ ڈالر افغان تاجرخریدکرافغانستان لے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان تاجر امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسی منظم شعبے کی ایکس چینج کمپنیوں کے بجائے غیرقانونی منی چینجرز سے خریدرہے ہیں جو پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں قائم ہیں اور وہ غیرقانونی منی چینجرز مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت پر انہیں ڈالر فروخت کرررہے ہیں لیکن غیرقانونی منی چینجرز ان منفی سرگرمیوں سے منظم اوپن کرنسی مارکیٹ میں دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ملک بوستان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 4 مئی کرنسی امپورٹ سے متعلق اقدامات سخت کردیئے ہیں اور انفرادی سطح پردرآمد ہونے والی ڈالر سمیت دیگر غیرملکی کرنسی کواس ملک کے سینٹرل بینک اور کسٹمز کے ڈیکلریشن سے مشروط کردیا ہے۔ امریکی ڈالر ودیگر اہم غیرملکی کرنسی کی ایک بڑی مقدار چونکہ افغانستان سے یواے ای درآمد ہوتی تھی اس لیے افغان تاجروں نے اپنی ضروریات کوپوری کرنے کے لیے متبادل طرز عمل اختیار کرتے ہوئے پاکستانی اوپن مارکیٹ کا رخ کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے پاکستانی روپے کی قدرکے استحکام کے لیے سرگرم عمل ہے اورگزشتہ 15 یوم کے دوران چھوٹی ودرمیانی درجے کی ریگولیٹڈ ایکس چینج کمپنیوں کو وسیع پیمانے پر ڈالر فراہم کیے ہیں۔فاریکس ایسوسی ایشن کی کوشش ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کو 117 روپے کی سطح پر لایا جائے تاکہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان صرف ایک تا دیڑھ فیصد کا فرق رہ جائے۔ انہوں نے وفاقی وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان سے ڈالر سمیت دیگر غیرملکی کرنسیوں کی منظم اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے غیرقانونی منی چینجرز کیخلاف کریک ڈاؤن کرے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…