جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل دہشتگرد عمر خالد خراسانی اسوقت کہاں ہے؟بھارتی اور افغان ایجنسیاں اسےپاکستان کےخلاف کیسے استعمال کر رہی ہیں،امریکہ نے اقوام متحدہ میں اس پر پابندی کیوں نہیں لگنے دی، مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)کالعدم دہشت فرد تنظیم جماعت ا لاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کا نام اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی جنگ میں دوہرے معیار سے تعبیر کیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر مارون وائن بام نے کہا کہ ان کے لئے بقول انکے امریکہ کے موقف کو سمجھنا مشکل ہے

کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس تنظیم کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور انہیں افغانستان میں پناہ مل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر خالد خراسانی ایک دہشت گرد تنظیم کا سربراہ ہے اور دہشت گرد ہے اور ایک دہشت گرد بہرحال دہشت گرد ہوتا ہے خواہ وہ جہاں بھی ہو۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی انٹیلی جینس ایجنسیاں مشترکہ طور پر اس جیسے دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے لئے پناہ دیتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…