سی پیک کے خلاف بڑی سازش پکڑی گئی۔۔پاکستان کی کونسی جماعت ملک توڑنا چاہتی ہے؟چینی انجینئرز پر حملےکس کے کہنے پر کئے، پارٹی میٹنگ میں کیا ہدایات دی جاتی رہیں؟دوران تفتیش دہشتگردکےتہلکہ خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 10 مئی‬‮‬‮ 2018  |  9:00

کراچی(این این آئی) محکمہ انسداد دہشت گردی کے ہاتھوں گرفتار ملزم فیاض ڈاہری نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیئے ہیں، ملزم نے بتایا کہ حملوں کا مقصد چینی شہریوں کو خوفزدہ کرنا تھا اور انہیں مجبور کرنا تھا کہ وہ اقتصادی راہداری پر کام چھوڑ کر چلے جائیں۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم فیاض حسین ڈاہری خیرپور کا رہائشی ہے جس کے کرمنل ریکارڈ کے مطابق وہ تنظیمی قیادت کے ایما پر ہنگامہ آرائی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم رائفل اور پستول چلانے کا ماہر ہے جو صرف ایک بار ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں گرفتار


ہوا۔ ملزم کے مطابق اس کا ایک بھائی گدا حسین پاکستان آرمی جبکہ دوسرا بھائی سکندر علی ریلوے پولیس میں کانسٹیبل ہے۔ ملزم نے جئے سندھ متحدہ محاذ میں شمولیت کے بارے میں دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ ملزم کے مطابق آبائی گاؤں سب وڈیرہ میں اس کی کریانہ کی دکان تھی۔ جس کیلئے سامان لینے وہ خیرپور جاتا تھا تو وہاں راجا بھمرو نامی رہنما اور پھر ان کے توسط سے سونالہ میمن سے اچھی سلام دعا ہوگئی۔ جنہوں نے اسے پارٹی میں متعارف کروایا۔ملزم کے مطابق راجہ بھمرو کی ہلاکت کے بعد اسے تنظیم کی مرکزی کمیٹی نے صوبورو ضلع خیرپور کا انچارج بنادیا۔ ملزم کے انکشافات کے مطابق تنظیم کے ضلعی صدر شیر سومورو اور فیاض خمیسانی اسے وارداتوں کیلئے ٹارگٹ دیتے تھے۔ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی کی میٹنگزمیں ملک توڑنے، علیحدہ سندھودیش بنانے، سندھیوں کے خلاف زیادتیوں کے نام پر لوگوں کو اکسانے اور خود ساختہ باتیں بنا کر لسانیت پھیلانے کے حوالے ہدایات دی جاتی تھیں ملزم کے مطابق اس منافر کو بڑھانے کیلئے پارٹی کا سوشل میڈیا سیل بھی کافی سرگرم ہے۔دہشگردی کی بڑی وردات کے حوالے سے ملزم نے انکشاف کیا کہ دسمبر 2016 میں نصراللہ کے ہمراہ سکھر میں سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز پر نیشنل ہائی وے پر سائیکل بم سے حملہ کیا۔ ملزم کے مطابق دیسی ساختہ بم ایک سائیکل میں نصب کرکے ریمورٹ کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔ملزم کے مطابق اس سے کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی نہیں تھی بلکہ دھماکہ کرکے منصوبے پر کام کرنے والے چائنیز کو خوف وہراس میں مبتلا کرنا تھا تاکہ وہ سی پیک کے منصوبے پر کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ واردات کے بعد وہ روپوش ہوگئے مگر ان کا ایک ساتھی نصراللہ پکڑا گیا تھا۔ ملزم کے مطابق وہ اور اس کا ساتھی لیاقت علی تھے۔ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ سندھ میں جاری سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنانے اور کام کرنے والے غیرملکی انجینئرز پر حملوں میں متحدہ محاذ شفیع برفت گروپ کے عبدالغفار، گلاب حسین، غلام مصطفی، رضا محمد، محمد حنیف، محمد حسن، یونس چاچڑ، محمد قاسم، ظہور حسین اور عبدالغفار شامل ہیں۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ جون 2017 میں ضلع گھوٹکی کے گاوں کالو مکھن کے پاس سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک چینی انجینئر اور پولیس کانسٹیبل زخمی ہوگئے تھے۔ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ان کی تنظیم پاکستان مخالف اور سندھو دیش بنانے کے مبینہ منصوبے اور عوام کو ملک کے سیکورٹی اداروں کے خلاف اکسانے کیلئے لٹریچر اور تحریری مواد سے اکسایا جاتا ہے۔ ملزم کے بیان کے مطابق اس سلسلے میں سندھ میں بڑے منظم انداز میں کام جاری ہے۔ پولیس تفتیش کے مطابق گرفتار دوسرا ملزم لیاقت علی سکھر کے علاقے ریتی لائن کا رہائشی ہے۔ جس نے رائفل اور پستول چلانے کی مہارت کے علاوہ ملزم فیاض حسین ڈاہری کی طرز کے انکشافات کیے ہیں۔ ملزم کے مطابق وہ تھانہ سکھر اے سیکشن میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار ہوا۔ جس میں ضمانت پر ہے۔ملزم کے مطابق اس نے سکھر کے شاہی بازار میں کپڑے کی دکان کھولی تھی اس دوران اپنے دوست اسلم پٹھان کے ذریعے جئے سندھ محاذ کے بشیر قریشی گروپ میں شامل ہوا تھا۔ جس کے بعد اسے تنظیم کے روہڑی زون کا انچارج بنا دیا گیا۔ ملزم کے مطابق جئے سندھ متحدہ محاذ کے عسکری ونگ سندھ لبریشن آرمی کے نام سے قائم ہے جوکہ دہشتگردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث ہے۔ ملزم کے مطابق وہ ایس ایل اے کے کسی رکن کو نہیں جانتا کیونکہ ایس ایل اے ونگ کا الگ سیٹ اپ کام کررہا ہے۔ سی ٹی ڈی سربراہ ثنا اللہ عباسی کے مطابق ملزمان کے قبضے سے بارودی مواد، بال بیئرنگ، الیکٹرک ڈیٹونیٹر، نان الیکٹرک ڈیٹونیٹرز، سیفٹی فیوز، ٹائم فیوز، بیٹریز، بڑی تعداد میں ملک دشمن اور جے ایس ایم ایم کا لٹریچر برآمد ہوا جو ملزمان کے مطابق انہوں نے دہشت گرد کاروائیوں کیلئے ذخیرہ کررکھا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کے مطابق سندھ میں سی پیک اور دیگر منصوبوں پرکام کرنے والے غیرملکیوں پر حملوں میں ملوث تمام ملزمان اب گرفتار ہوچکے ہیں۔ صوبہ ماضی کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ رپورٹس کے مطابق صوبے میں اس طرح کے کوئی مزید گروہ ملوث نہیں ہیں۔ پولیس اور سی ٹی ڈی اس طرح کے گروہوں کی سرکوبی کیلئے سندھ بھر میں سرگرم ہے۔واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے سندھ میں دہشتگردی کے حوالے سے سرگرم گروہ کے دو ملزمان کو گذشتہ ہفتے گرفتار کیا تھا۔ ان ملزمان سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

موضوعات:

loading...