جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

شوگرملز بند کنٹرول سنبھال لینگے ۔۔چیف جسٹس نے جو کہا تھا وہ کام شروع کر دیا پاکستان کی بڑی شوگر مل کے حوالے سے بڑا حکم جاری، یہ شوگر مل کس کی ہے؟

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ نے گنا کاشتکاروں کو واجبات ادا نہ کرنے پر برادر شوگر مل کی موجودہ اور سابق انتظامیہ کو طلب کر لیا، میاں نشاط، ہمایوں رشید، اسلم بشیر اور میاں عمر ادریس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ شوگر مل مالکان نے گنے کی بجائے کسانوں کی کرشنگ شروع کر دی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں فرنٹیئر

اور برادر شوگر ملز کی جانب سے کسانوں کو عدم ادائیگی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں شوگر ملوں نے رواں سال کرشنگ نہیں کی اور ماضی کے واجبات بھی ہیں، واجبات تو ادا کرنا ہوں گے، شوگر مل مالکان نے گنے کی کرشنگ کے بجائے کسانوں کی کرشنگ شروع کر دی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا شوگر مل فروخت کرتے وقت واجبات کا بھی طے ہوا تھا، کیا گزشتہ واجبات نئی انتظامیہ نے دینا تھے۔ عدالت نے برادر شوگر مل کی موجودہ اور سابق انتظامیہ دونوں کو طلب کر لیا۔ عدالت نے میاں نشاط، ہمایوں رشید، اسلم بشیر اور میاں عمر ادریس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ موجود اور سابق انتظامیہ شوگر مل کی فروخت اور عدالتی کارروائی کا ریکارڈ لیکر آئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں شوگر ملوں نے رواں سال کرشنگ نہیں کی اور ماضی کے واجبات بھی ہیں، واجبات تو ادا کرنا ہوں گے، شوگر مل مالکان نے گنے کی کرشنگ کے بجائے کسانوں کی کرشنگ شروع کر دی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا شوگر مل فروخت کرتے وقت واجبات کا بھی طے ہوا تھا، کیا گزشتہ واجبات نئی انتظامیہ نے دینا تھے۔ عدالت نے برادر شوگر مل کی موجودہ اور سابق انتظامیہ دونوں کو طلب کر لیا۔ عدالت نے میاں نشاط، ہمایوں رشید، اسلم بشیر اور میاں عمر ادریس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ موجود اور سابق انتظامیہ شوگر مل کی فروخت اور عدالتی کارروائی کا ریکارڈ لیکر آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…