جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

جنسی ہراساں کرنے پر سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی)افسران کیخلاف درخواست دائر،جنسی ہراساں کرنے جب آواز بلند کی تو میرے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟خاتون نادیہ کے افسوسناک انکشافات

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) میں اقرباء پروری ، افسرشاہی اور خواتین ملازمین سے جنسی ہراسیت سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہیومن رائٹس سیل میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔درخواست گزار نادیہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کو جنسی ہراساں کرنے کے بعد جب آواز بلند کی گئی تو پی ٹی وی کے متعدد سینئر افسران نے ملزمان کا دفاع کرتے ہوئے انہیں نوکری سے برخاست کردیا

جس پر انہوں نے وفاقی محتسب برائے خواتین سے رجوع کیا تو وفاقی محتسب نے نامزد ملازمین کی سروس ضبط اور دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جس پر ملزمان نے اپیل کے لئے ایوان صدر سے رابطہ کیا تو ایوان صدر نے وفاقی محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مبینہ ملزمان کو باعزت بری کردیا۔نادیہ نے انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ سرکاری ٹی وی میں بااثر افراد کے ٹولے نے خواتین کا نوکری کرنا محال بنا رکھا ہے جس میں انہوں نے اسامہ ظفر ، سیف اظہر ، ڈاکٹر نعمان نیاز، فرخندہ شاہین ، مرتضیٰ آصف ، افضل چوہدری ، وسیم ضیاء الرحمن ، مقبول شاہ ، منور کنول ، مسعود عبدالرشید اورسعید اطہر کے خلاف الزام لگایا ہے کہ ان لوگوں نے ان کو نوکری سے برخاست کرتے ہوئے ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو تحفظ دے کر ملزمان کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے ۔  سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) میں اقرباء پروری ، افسرشاہی اور خواتین ملازمین سے جنسی ہراسیت سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہیومن رائٹس سیل میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔درخواست گزار نادیہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کو جنسی ہراساں کرنے کے بعد جب آواز بلند کی گئی تو پی ٹی وی کے متعدد سینئر افسران نے ملزمان کا دفاع کرتے ہوئے انہیں نوکری سے برخاست کردیا جس پر انہوں نے وفاقی محتسب برائے خواتین سے رجوع کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…