جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کے مقدمات دو ماہ میں نمٹانے کا حکم

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کے مقدمات دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ ٹرائل میں تعاون نہیں کر رہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدم تعاون کی صورت میں شعیب شیخ کی ضمانت منسوخ کردی جائے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کہاں ہیں، کیا ان کی ضمانت ہو چکی ہے جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تمام مقدمات میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ملزمان سے مزید تحقیقات کرنی ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا ایگزیکٹ کے کون کون سے کیسز کس عدالت میں زیر التوا ہیں، عدالت نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی تمام تفصیلات طلب کرلیں جبکہ عدالت نے حکم دیا کہ جعلی ڈگری کیس کے مقدمات دو ماہ میں نمٹائے جائیں۔عدالت نے دس روز میں ایگزیکٹ کے چینل کے سابق ملازمین کو تنخواہیں دینے اور دس روز میں 10 کروڑ روپے سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن افراد کے بقایہ جات ہیں ان کو ادا کرنے ہیں، 10 کروڑ روپے سپریم کورٹ میں جمع نہ کرائے تو نتائج بھگتنا ہوں گے اور ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کودوبارہ جیل بھی جانا پڑسکتا ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایگزیکٹ کے چینل کے ملازمین کا کتنا دعویٰ ہے جس پر وکیل نے بتایا کہ ملازمین کا دعویٰ 30 کروڑ روپے کا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ دیا تھا کہ معاملہ حل کریں لیکن اتمام حجت کیلئے ایک روز پہلے میٹنگ کی گئی۔ایگزکٹ کے وکیل نے کہا کہ دس کروڑ روپے کی رقم جمع کروانا مشکل ہے، کوئی پراپرٹی یا کچھ اور اپنے پاس زرضمانت رکھ لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لیے کون سا مشکل ہے، 2 ڈگریاں ہی بیچنی ہیں۔ایگزیکٹ کے چینل کے سی ای او نے بیان دیا کہ کرائسز آیا تو سلمان اقبال نے چینل ٹیک اوور کیا ٗدو ماہ کی ادائیگیاں سلمان اقبال کے ذمے ہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت دس روز کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…