لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ عمران خان نتھیا گلی میں آرام کرنے کی بجائے گیارہ نکات پر عملدرآمد کر کے دکھاتے ، قوم آئندہ عام انتخابات میں کھیل تماشے کا حساب لے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا،چوہدری نثار پارٹی کے پرانے ساتھی ہیں اور ان کا اپنا ایک مقام ہے ۔ عامر صدیق کوان کی صاحبزادی کی شادی پر مبارکبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ قوم کا شعور بیدا ہوا ہے ،
عوام باتوں پر نہیں بلکہ خدمت پر ووٹ دیں گے ۔ پشاور میں میٹرو بس کا منصوبہ شروع کیا گیا لیکن یہ منصوبہ مکمل ہونے کی بجائے وہاں پر دھول اڑرہی ہے ، عوام اس کا ضرور حساب لیں گے ۔ انہوں نے چوہدری نثار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ چوہدری نثار پارٹی کے پرانے ساتھی ہیں اور ان کا اپنا ایک مقام ہے ۔ پارٹی میں سب اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کئی آراء ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی قیادت میں کام کیا ہے ، لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کواجالوں میں بدلا ہے ، خدا تعالیٰ نے چاہا تو مسلم لیگ (ن) آئندہ عام انتخابات میں بھی کامیابی کر یگی ۔اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ نواز شریف خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں یہ خلائی مخلوق کیا ہے جس پر حمزہ شہباز نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو تارے نظر آرہے ہیں۔واضح رہے کہ ہفتہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جب نواز شریف کی نااہلی ہوئی تو ناراض ارکان کا ایک طوفان تھا ٗچاہتا تھا تو آرام سے 40، 45 ارکان اسمبلی کا گروپ بنا سکتا تھا، دھڑے بندی کیلئے میرے پاس بے شمار ارکان اسمبلی آئے لیکن میں نے سب کو پارٹی میں رہنے کا مشورہ دیا، آپ کو گالیاں دینے والے آج وفادار ہیں لیکن ساری عمر ساتھ دینے والا اختلاف کرنے پر برا ہے ٗ نواز شریف اور ان کے پیادوں کو کہتا ہوں کہ 34 سال پارٹی کی خدمت کی ہے،
پرانے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا خوشامدیوں کو، کسی کی جوتیاں اٹھانا والا نہیں، ساری زندگی کی جوتیاں سیدھی نہیں کی، مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر جوائن کی۔انہوں نے کہاکہ لوگ مجھ پر کسی گروپ میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور مجھے علم ہے کہ سب کا سوال یہ ہے کہ میں مسلم لیگ (ن) میں رہوں گا یا نہیں؟ یہ سوال پوچھنے اور سوچنے والے میری سیاسی تاریخ دیکھ لیں، گزشتہ 35 سال سے ایک ہی جماعت اور نوازشریف کا ساتھی رہا، بڑے بڑے امتحانات آئے لیکن اپنی جماعت کو نہیں چھوڑالہذا 2 نمبر آدمیوں کی باتوں میں کوئی نہ آئے۔
آج تک کسی گروپ کا حصہ بنا اور نا ہی آئندہ اس کا امکان ہے اور نہ ہی کبھی پارٹی کو مایوس کروں گا۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں کسی تحریک کا حصہ نہیں اور نا ہی کسی کا آرڈر لے کر آیا ہوں ٗمیں کسی سے آرڈر نہیں لیتا بلکہ سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہوں۔ عمران اور نوازشریف میرے سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟۔ یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے بانی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں بھی پارٹی کا بانی رکن ہوں اور میرے علاوہ کوئی بھی شخص بانی رکن نہیں، پارٹی کے تمام ارکان قابل احترام اور معزز ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے موجودہ 70 فیصد سے زیادہ رہنماؤں نے پارٹی چھوڑی اور پھر شمولیت اختیار کی لیکن میں تسلسل کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ جڑا رہا۔



















































