جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عجب کرپشن کی غضب کہانی۔۔تبدیلی کے دعویداروں کا پول کھل گیا بلین ٹری سونامی منصوبے میں صرف کتنے پودے لگائے گئے جبکہ کتنے کروڑ پودے نرسریوں میں گنتی کر کے پورے کئے گئے، نیب کی تحقیقات میں سچ سامنے آگیا

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب نے خیبرپختونخواہ حکومت کے بلین ٹری منصوبے کی تحقیقات مکمل کرلی، سیکرٹری جنگلات کا بیان ریکارڈ، ٹیوب ویلوں کی تنصیب ، سولر پینلز کی خریداری میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی تسلیم کرلی۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے خیبرپختونخواہ حکومت کے بلین ٹری منصوبے کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں ۔ اس سلسلے میں نیب ٹیم نے سیکرٹری جنگلات کا

بیان ریکارڈ کر لیا ہے جس میں سیکرٹری جنگلات نے منصوبے میں ہونیوالی خریداری جیسے ٹیوب ویلوں کی تنصیب ، سولر پینلز کی خریداری میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی تسلیم کرلی ہے تاہم ذرائع کے مطابق نیب حکام کو براہ راست کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور نہ ہی قومی فنڈز کسی شخصیت کو ٹرانسفر ہونے کا ثبوت مل سکا۔ دوسری جانب نیب کی ابتدائی تحقیقات میں بھاری مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کی وزارت جنگلات کے اعلیٰ افسران کو ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ حاصل سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بلین ٹری نامی منصوبہ کا ابتدائی لاگت تخمینہ بائیس ارب روپے تھا جس کو تین مرحلوں میں مکمل ہونا تھا پہلے مرحلے میںمحکمہ جنگلات کے افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ پودوں کی خریداری قواعد وضوابط کے مطابق کریں اور پودوں کی خریداری سے پہلے اخبارات میں ٹینڈرز دیں، منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں کل پودوں کا 80فیصد خریدنا تھا جبکہ یہ اسی فیصد پودے مختلف افراد ، شخصیات اور نجی اداروں سے براہ راست خریدے گئے اور قواعد وضوابط کے علاوہ پیرا رولز کی شدید خلاف ورزی بھی کی گئی بالخصوص اس مرحلہ میں اسی فیصد پودوں کی خریداری میں کے پی کے کی مخصوص نرسریوں کے مالکان کو نوازا گیا جبکہ باقی بیس فیصد پودے حکومتی نرسریوں

سے خریدے گئے اس مرحلہ میں پہلے سے مقرر کردہ ریٹس یعنی فی پودا چھ روپے میں خریدا گیا بعض پودے نو روپے جبکہ بعض پودے ایک روپے میں بھی خریدے گئے ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ خریداری سے قبل قواعد وضوابط مرتب بھی نہیں کئے گئے تھے اور نرسری سے پودوں کی خریداری کی تعداد اور مقدار بارے واضح تعین نہیں کیا گیا محکمہ جنگلات

کے پی کے افسران نے اربوں روپے کی ادائیگیاں چیکوں سے کرنے کی بجائے کیش کی صورت میں کی تھیں جو کہ قواعد کے بالکل برعکس ہے بالخصوص پودے لگانے بارے جو مزدور کی خدمات لی گئی ان کو بھی ادائیگی کیش کی صورت میں ہوئی اور ان مزدوروں کو ڈیلی ویجز ملازمین تصور کیا جاتا ہے تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض افسران ، مزدوروں اور ٹھیکیداروں نے

کے پی کے کے محکمہ جنگلات سے ملین روپے ایڈوانس کے طورپر بھی حاصل کئے جو کہ ایک غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے نیب کی تحقیقات میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ ایک ارب پودوں میں سے زمین پر صرف پچیس کروڑ پودے لگائے گئے جبکہ باقی 75 کروڑ پودے نرسریوں میں موجود پودوںکی گنتی کرکے مکمل کیا گیا کے پی کے کے لئے اپنے اعدادوشمار کے بعد ساٹھ فیصد پودے سابقہ پودوں سے اگائے گئے تھے نئے پودے انتہائی کم تعداد میں اگائے گئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…