جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا مارکیٹ سے جعلی ادویا ت کو فوری اٹھانے کا حکم

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی ادویات سازی کے کیس کی سماعت کے دوران مارکیٹ سے جعلی ادویات کو فوری اٹھانے کا حکم دیدیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ نیب جو پرتول رہا ہے وہ ٹھیک نہیں‘کل جو اجلاس منسوخ ہوا اسکی بھی ایک وجہ ہے‘نیب اپنی جگہ پر واپس آجائے‘نیب ،ایف آئی اے ڈریپ معا ملات میں دخل اندازی نہ کریں اور اپنی رپورٹ 15دن میں جمع کروائیں۔

ڈریپ کی کیا کارکردگی تھی؟‘ ڈریپ اپنا کام جاری رکھے اور بتائے وہ جعلی ادویات کا خاتمہ کتنے عرصے میں کرے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی ادویات سازی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے کی جعلی ادویات کیس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی جعلی ادویات بنانیوالی فیکٹری کیخلاف مقدمے میں چالان جمع کرایاگیاہے۔چالان کے مطابق فیکٹری مالک چودھری عثمان گناہ گار ہے۔ڈی جی نے ملزم کے عزیز پولیس والے کو بری کر دیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے کدھر ہیں ان کو بلوا لیں۔کیا ڈی جی ایف آئی اے نے خود تحقیقات کی ہیں؟انہوں نے کہا دباؤ ڈالنے والے آرپی آو بہاولپورکو بے قصور قراردیدیا گیا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملزم کیخلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے؟جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزم عثمان کیخلاف3 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ مارکیٹ سے جعلی ادویات فوری اٹھا لی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ کی کیا کارکردگی تھی‘ ڈریپ کو کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ڈریپ سے پوچھا کہ وہ جعلی ادویات کا خاتمہ کتنے عرصے میں کرے گی۔چیف جسٹس نے ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب جو پرتول رہا ہے وہ ٹھیک نہیں،کل جو اجلاس منسوخ ہوا اسکی بھی ایک وجہ ہے۔نیب اپنی جگہ پر واپس آجائے۔انہوں نے کہا کہ نیب ،ایف آئی اے ڈریپ معا ملات میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنی رپورٹ 15دن میں جمع کروائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…