جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یہ کیسا انصاف ہے کہ نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کر عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے اور اس بندے کو چھوڑ دیا گیا۔۔فضل الرحمان نے عدالتی فیصلوں اور احتساب کے عمل پر بڑے سوالات اٹھا دئیے

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

ڈی آئی خان(مانیٹرنگ ڈیسک )یہ کیساانصاف ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کر عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے،وزیراعظم کو ایک دو کمپنیوں کی وجہ سے اقتدار سے نکالا گیا جبکہ لکی مروت کے پی ٹی آئی کے رہنما کی پاناما میں34کمپنیاں ہیں،مولانا فضل الرحمان کا جلسے سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے

ڈیرہ اسماعیل خان کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئےسابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو ایک دو کمپنیوں کی وجہ سے اقتدار سے نکالا گیا جبکہ لکی مروت کے پی ٹی آئی کے رہنما کی پاناما میں34کمپنیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کرعدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے، یہ کیساانصاف ہے، کیا یہ انصاف ہے؟ کہاں ہیں ادارے؟ احتساب کیا صرف دوسروں کیلئے تمہارے لیے کچھ نہیں؟ انہوں نے کہا کہ قوم کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، ادارے بھی تو کچھ انصاف سے کام لیں، صرف سیاست دانوں کا پیچھا کیا جارہا ہے، پاکستان میں عجیب سا انصاف چل رہا ہے۔فضل الرحمن نے خیبرپختونخواہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں میں حکومتوں کے مخالفین ان پر کرپشن الزامات لگا رہے ہیں جبکہ خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت کے وزیر ہی اپنے وزیراعلیٰ پر کرپشن کا الزام لگا رہے ہیں اور اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا اپنا دامن گندگی سے بھرا ہوا ہے اور تم دوسروں کی بات کرتے ہو، تبدیلی کی بات کرتے ہیں صوبے میں ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کروا سکے۔صوبے کے حکمران کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے گئے، بتائیں تو صحیح کہ وہ ایک ارب درخت کہاں لگے ہیں؟

کمیشن کھانے کے لئے پورے پشاور کو اکھاڑ دیا گیا۔فضل الرحمان نے کہا کہ تم لوگ20ارکان کو پارٹی سے نکال کر عوام کو دھوکا دے رہے ہو، سراج الحق نے ان کا سارا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، یہ تو بتاؤ سینیٹ الیکشن میں کس کے کہنے پرووٹ دیا تھا؟ ایسے لوگ اقتدار میں دوبارہ آگئے تو پھرکہیں گے انہیں لایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…