اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

فیصل آباد کی وہ جگہ جہاں چند روپوں کی خاطر گاہکوں کو جنسی تسکین کیلئے بچے پیش کئے جاتے ہیں۔۔ایسا شرمناک انکشاف کہ ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا

datetime 18  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس کی زیر سرپرستی فیصل آباد لاری اڈے اور دیگر جگہوں پر قائم درجنوں ہوٹل بچوں سے زیادتی کے اڈے بن گئے، بھکاری خواتین اور مالشئیوں کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف۔ پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی زیر سرپرستی فیصل آباد لاری اڈے اور دیگر جگہوں پر قائم درجنوں ہوٹل بچوں

سے زیادتی کے اڈے بن گئےہیں۔ چوکی لاری اڈا کے پولیس اہلکاروں کے تین رکنی گروہ نے نصف درجن کے قریب ہوٹلوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے جو کہ ان کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔ ان ہوٹلز میں کم عمر بچوں اور خواجہ سراؤں کو جنسی خواہش کی تکمیل کیلئے پیش کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق مقصور کیسل، الحیات، چمن، زم زم، علی جان، میاں، مہران، پنجاب، گلستان، العزیز، سنگم، چیمہ، ستارہ، پاک، رائل ان، انڈس، پرائم اور دیگر ہوٹلوں میں بچوں سے زیادتی کروائی جاتی ہے۔ جس کا دو ہزار روپے سے پانچ ہزار ریٹ مقرر ہے۔ ذرائع کے مطابق چوکی لاری اڈا کے محرر فاروق، پولیس اہلکار عطاءاللہ اور آصف باجوہ نے گروہ بنارکھا ہے۔ اس تین رکنی گروہ نے متعدد ہوٹلز ٹھیکے پر لے رکھے ہیں، ان ہوٹلوں میں بچوں سے مبینہ طور پر زیادتی کی جاتی ہے۔اخباری ذرائع کے مطابق محرر فاروق ایس پی جڑانوالہ کا نائب ریڈر تھا، مبینہ کرپشن پر اس کو نکال دیا گیا۔ جس کے بعد وہ اعلیٰ پولیس افسر کی سفارش پر چوکی لاری اڈا میں نائب محرر تعینات ہوگیااور کانسٹیبل آصف باجوہ کا دو ماہ قبل پولیس لائن میں تبالہ کردیا گیا۔ مگر وہ روانگی نہیں کررہا۔ تینوں نے گروہ بنالیا ہے اور مکروہ دھندہ کرکے کمائی کررہے ہیں۔ نوعمر نوید نامی لڑکی سے ہوٹل میں زیادتی ہوئی حالت بگڑنے پر اےس جڑانوالہ کے پرائیویٹ ہسپتال لے جاکر اس کا علاج معالجہ کروایا گیا۔

بھکارنوں نے بھی ہوٹلوں میں کمرے کرائے پر حاصؒ کررکھے ہیں جو کہ بھیک مانگنے کی آڑ میں جسم فروشی کا دھندہ کرتی ہیں اور مالشیئے پولیس اہلکاروں کے ایجنٹ اور دلال بنے ہوئے ہیں۔ ان کے ہمراہ خواجہ سراؤں کی بھی ہوٹلوں میں آمدورفت جاری رہتی ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…