جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چار ہزار پاکستانیوں کی غیرممالک کو حوالے کیاگیا اورڈالر وصول کئے گئے،جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے انکشافات پر آفتاب شیرپاؤکا شدید ردعمل،حقیقت کیا ہے؟کھل کر بول پڑے

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤنے جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال کے انکشافات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ان کے دور میں ایک بھی شخص غیر ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔ ایک انٹرویومیں سابق وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے اس بیان کو مسترد کیا ہے کہ ان کے دورِ وزارت میں چار ہزار پاکستانیوں کو دیگر ممالک کے حوالے کیا گیا اور اس کے عوض ڈالرز وصول کیے گئے۔

سابق وزیر داخلہ نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے انکشاف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں ایک بھی شخص غیر ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں جاوید اقبال صاحب کے کمیشن میں بھی اس بارے میں بیان دے چکا ہوں کہ اس میں وزارتِ داخلہ کا کوئی کام نہیں تھا اور نہ ہمارے وقت میں ایک شخص بھی کسی کے حوالے کیا گیا اس پہلے جو کمیشن بنا تھا جسٹس ناصرہ جاوید اقبال کی سربراہی میں ٗاس میں بھی ہم گئے تھے اور یہ بیان دیا تھا ٗپتا نہیں کہاں سے یہ بندے لے کر آئے ہیں ٗچار ہزار لوگ کوئی معمولی بات نہیں ٗبہت بڑی بات ہے۔ ایک شخص بھی کسی اور ملک کے حوالے کرنا ٗیہ تو خلاف قانون ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا۔آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ امریکہ میں ستمبر 2001ء کے دہشتگرد حملوں کے بعد جو صورتِ حال پیدا ہوئی ٗاس وقت پاکستان میں جنرل مشرف چیف ایگزیکٹو تھے اور اگر اس وقت کسی کو غیر ملک کے حوالے کیا گیا تو وہ ان کے علم میں نہیں۔انہوں نے کہاکہ مشرف صاحب نے جو کیا مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ شروع میں 9/11 کے بعد جو صورتِ حال تھی اس وقت تو میں نہ وزیرِ داخلہ تھا اور نہ ہماری حکومت تھی۔ اس وقت اگر انھوں (جنرل مشرف) نے دیا ہو تو کسی بنیاد پر دیا ہوگا `وہ ان کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2004ء سے 2007ء تک ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا۔ ہم نے کس کو حوالے کرنا تھا؟ اس دوران میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مشرف نے بھی کسی کو حوالے نہیں کیا۔ ان (جنرل مشرف) کے شروع کے دنوں کا مجھے علم نہیں ٗ اس کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بارے میں وزارتِ داخلہ کا ریکارڈ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…