جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اگر اب یہ کام کیا تو پھر تیار رہنا۔۔حکومت نے نوازشریف کیخلاف احتساب عدالت میں کیس سننے والے جج محمد بشیر کو گھر خالی کرنے کا کہا تو اعلیٰ عدلیہ نے کیا کردیا؟نوٹس دینے والے افسروں کو لینے کے دینے پڑگئے

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ججز سے سرکاری رہائش گاہیں خالی کروانے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 33 ججز کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ نے وزارت ہائوسنگ کا 28 مارچ کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ

آئندہ سماعت تک رہائش گاہیں واپس نہیں لی جاسکتیں۔واضح رہے کہ 2008 میں وزارت ہاؤسنگ نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کی تھیں جبکہ اب ان ججز سے رہائش گاہیں خالی کروانے کیلئے انہیں نوٹس بھیجا گیا تھا۔سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، وزارت ہائوسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت نے وزیر ہاؤسنگ، سیکریٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں.کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی. خیال رہے کہ حکومت نے ماتحت عدالت کے جن ججز کو رہائش گاہیں خالی کرنے کیلئے نوٹس بھیجا تھا ان میں نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند بھیک شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، وزارت ہائوسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت نے وزیر ہاؤسنگ، سیکریٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو

نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں.کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی. خیال رہے کہ حکومت نے ماتحت عدالت کے جن ججز کو رہائش گاہیں خالی کرنے کیلئے نوٹس بھیجا تھا ان میں نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند بھیک شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…