جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اگر اب یہ کام کیا تو پھر تیار رہنا۔۔حکومت نے نوازشریف کیخلاف احتساب عدالت میں کیس سننے والے جج محمد بشیر کو گھر خالی کرنے کا کہا تو اعلیٰ عدلیہ نے کیا کردیا؟نوٹس دینے والے افسروں کو لینے کے دینے پڑگئے

datetime 17  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ججز سے سرکاری رہائش گاہیں خالی کروانے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماتحت عدلیہ کے ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 33 ججز کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ نے وزارت ہائوسنگ کا 28 مارچ کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ

آئندہ سماعت تک رہائش گاہیں واپس نہیں لی جاسکتیں۔واضح رہے کہ 2008 میں وزارت ہاؤسنگ نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کی تھیں جبکہ اب ان ججز سے رہائش گاہیں خالی کروانے کیلئے انہیں نوٹس بھیجا گیا تھا۔سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، وزارت ہائوسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت نے وزیر ہاؤسنگ، سیکریٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں.کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی. خیال رہے کہ حکومت نے ماتحت عدالت کے جن ججز کو رہائش گاہیں خالی کرنے کیلئے نوٹس بھیجا تھا ان میں نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند بھیک شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر اور سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، وزارت ہائوسنگ کا ججز کی رہائش گاہیں واپس لینے کا نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت نے وزیر ہاؤسنگ، سیکریٹری ہاؤسنگ اور اسٹیٹ افسر کو

نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ججز قانون کے تحت سرکاری رہائشیں رکھنے کے اہل ہیں.کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی گئی. خیال رہے کہ حکومت نے ماتحت عدالت کے جن ججز کو رہائش گاہیں خالی کرنے کیلئے نوٹس بھیجا تھا ان میں نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند بھیک شامل ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…