جتنی مرضی زبان بندی کرلیں جیت ہماری ہوگی ،نوازشریف

  منگل‬‮ 17 اپریل‬‮ 2018  |  15:09

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) ٗسابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ میری زبان بندی کی گئی لیکن یاد رکھیں جتنی مرضی زبان بندی کرلیں جیت ہماری ہوگی ٗعوام کی نہ سنی گئی تو بڑے پیمانے پر انتشار دیکھ رہا ہوں ٗ دنیا بدل گئی ہمیں بھی بدلنا ہوگا ٗ پرانی غلطیاں نہیں دہرانا چاہئیں ٗ ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہمارے تھے ہی نہیں ٗ ایٹمی دھماکے کئے اس پر بھی میرے خلاف ریفرنس بنا دیں ۔ منگل کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نوازشریف نے کہا کہ عوام کی بات نہ سنی

گئی تو بڑے پیمانے پر انتشار دیکھ رہا ہوں، دنیا بدل گئی ہے ہمیں بھی بدلنا ہوگا، پرانی غلطیاں نہیں دہرانا چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر مہذب پابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں، لوگوں کی زبان بندی کی گئی، میری بھی زبان بندی کی گئی، ہم کسی کی زبان بندی نہیں کرسکتے، یاد رکھیں جتنی مرضی زبان بندی کرلیں جیت ہماری ہوگی۔نوازشریف نے کہا کہ زباں بندی، ٹی وی بندی اور اخبار بندی بند ہونی چاہیے، ایسے فیصلے اب صرف پاکستان میں آتے ہیں، میں آئین، قانون اور ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا رہا، میں 22 کروڑ عوام کے حق کی بات کرتا رہا، آپ کس طرح عوام کے حق کو مجروح کر سکتے ہیں؟۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے اور سب کے یکساں حقوق ہیں، احتجاج سب کا حق ہے کسی کی زبان بند نہیں کر سکتے، یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے، احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، مہذب معاشرے میں اسے روکنا بالکل جائز نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ عدالتی فیصلے میں بتایا جائے کہ عدلیہ کیخلاف بات کرنے کا کیا مطلب ہے؟ بات کے بعد تحفظ کی گارنٹی نہیں ہے۔نوازشریف نے کہا کہ ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہمارے تھے ہی نہیں، آج جتنے محب وطن ہیں وہ غدار ہیں، میں چاہتا تھا کہ سب مل کر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں ہم نے رائے ونڈ روڈ کشادہ کرنے کا حکم دیا جس پر نیب کیس بن گیا ٗ 1990میں موٹروے شروع ہوئی اس پربھی ریفرنس بننا چاہیے ٗایٹمی دھماکے کیے اس پر بھی میرے خلاف ریفرنس بنادیں۔(ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ افسوس کہ ملک میں دھرنے کرائے گئے، ہم نے درگزر کیا سمجھوتہ نہیں کیا اور جو درگزر کیا اس پر افسوس نہیں ٗ دوسری طرف بھی درگزر کرنا چاہیے تھا۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ فاٹامیں عوام کو حقوق ملنے چاہئیں، مسائل حل کرنے چاہئیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں