جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

یورپ میں پاکستانی سفارتخانوں سے اہم سہولت ختم کیے جانے پر تارکین وطن میں شدید تشویش،سراپا احتجاج بن گئے 

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

لزبن (مانیٹرنگ ڈیسک) پرتگال سمیت شینگن ممالک (یورپ ) میں وزارت داخلہ حکومت پاکستان کی جانب سے تمام سفارتخانوں سے نادرا کی سہولت ختم کیے جانے پر پاکستانی تارکین وطن میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور حکومت کے اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں کیونکہ یورپ میں مقیم سب سے زیادہ ایسے پاکستانی تارکین وطن ہیں جو کہ غیر ہنر مند اور پرائمری سے بھی کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہیں

نادرا اور پاسپورٹ کی آن لائن سروس جدید تقاضوں کے تو عین مطابق ہے لیکن یورپ میں مقیم ان پڑھ افراد کو اب آن لائن سہولت کے لیے پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی افراد (ایجنٹ) کی سہولت لینا ہو گء اور اس کے برعکس کچھ سروس فیس بھی ادا کرنا ہو گء جبکہ اس کے برعکس بنگلہ دیش اور انڈیا کے سفارخانے یورپ میں مقیم اپنے شہریوں کو ا نتہائی کم اخراجات پر سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور ان کے ممالک کے کاغزات کی مقامی زبان میں ٹرانسلیشن اور نوٹری کی سروس بھی فراہم کرتے ہیں یورپ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتخانوں میں نادرا کی سہولت فی الفور بحال کی جاے اور اس کے ساتھ مقامی زبان میں ضروری کاغزات کی ٹرانسلیشن اور نوٹری کی سہولت بھی فراہم کی جاے ، دیگر ممالک کی طرح کم سے کم فیس وصول کی جاے اور یورپ کے ہر ملک کی کم سے کم اجرت کو مد نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں حکومت تارکین وطن کے مسائل کا ازالہ کرے نہ کے مسائل میں اضافہ کے اسباب پیدا کرے ۔۔  پرتگال سمیت شینگن ممالک (یورپ ) میں وزارت داخلہ حکومت پاکستان کی جانب سے تمام سفارتخانوں سے نادرا کی سہولت ختم کیے جانے پر پاکستانی تارکین وطن میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور حکومت کے اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں کیونکہ یورپ میں مقیم سب سے زیادہ ایسے پاکستانی تارکین وطن ہیں جو کہ غیر ہنر مند اور پرائمری سے بھی کم تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہیں نادرا اور پاسپورٹ کی آن لائن سروس جدید تقاضوں کے تو عین مطابق ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…