اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں گلوکارہ کا قتل، تقریب میں نشے میں دھت ایس ایچ او اور سیشن جج کا ریڈر کیا کرتے رہے؟ طارق جتوئی نے قتل کس کے کہنے پر کیا؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

لاڑکانہ (مانیٹرنگ ڈیسک) لاڑکانہ میں ہونے والی ایک تقریب میں گانا کھڑے ہو کر گانے کی فرمائش پر گلوکارہ ثمینہ سندھو کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا، گلوکارہ کے شوہر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ہارمونیم بجاتے ہیں اور اس تقریب میں وہ گلوکارہ کے پیچھے ہی بیٹھے تھے، اس نے بتایا کہ کھیتوں میں ہونے والی اس تقریب میں مقامی ایس ایچ او بھی شریک تھا اور وہ نشے میں تھا،

گلوکارہ کے شوہر نے بتایا کہ نیازجونیجو جو کہ سیشن جج کا ریڈر ہے نے میری بیوی سے کہا کہ اٹھ کر گانا گاؤ اور رقص کرو، میری بیوی کی طبیعت خراب تھی اس وجہ سے اس نے انکار کیا لیکن پھر بھی وہ اٹھنے لگی تو نشے میں مدہوش نیاز جونیجو نے اپنے ساتھ بیٹھے طارق جتوئی کو اکساتے ہوئے کہا کہ اس نے میری بات نہیں مانی اور تم ایسے ہی بیٹھے ہو اور طارق جتوئی نے یہ سنتے ہی اچانک اٹھ کر تین فائرکر دیے ان میں سے ایک گولی میری بیوی ثمینہ کے سینے کے آرپار ہوگئی۔ مقتول گلوکارہ کے شوہر عاشق سموں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طارق جتوئی نیازجونیجو کا قریبی دوست ہے، اس نے کہا کہ گولی لگنے کے بعد ہم ثمینہ سندھو کو ہسپتال لے گئے لیکن ہماری ٹیم میں شامل موسیقار وہیں رہ گئے جن پر پولیس نے تشدد کیا اور ان سے 35 ہزار روپے بھی چھین لیے۔ عاشق سموں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب تھانے کے بالکل پیچھے زمینوں پر ہو رہی تھی اور کنگا تھانے کا ایس ایچ او لیاقت علی بھی وہیں موجود تھا، وہ بھی نشے کے عالم میں تھا۔ مقتولہ کے شوہر نے کہا کہ جب پولیس نے ہماری کوئی بات نہ سنی تو ہم رات کے دو بجے میت کو ایس پی کے دروازے کے سامنے لے گئے لیکن جب وہاں سے بھی کوئی نوٹس نہ لیا گیا تو ہم نے دوپہر کو پریس کلب کے سامنے میت رکھ کر احتجاج کیا لیکن اس کے باوجود نہ ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی ایس پی نے رابطہ کیا۔

عاشق سموں نے کہا کہ جب میڈیا پر خبر آئی تو آئی جی سندھ نے نوٹس لیا تو ایس پی تنویر تنیو نے ایس ایچ اوکو معطل کر دیا۔ مقتول گلوکارہ کے شوہر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈی ایس پی نے اپنے دفتر میں بلا کر ایف آئی آر کٹوائی تو میں نے اپنے بیان میں بتایا کہ نیاز جونیجو نے طارق جتوئی کو اکسایا تھا لیکن پولیس نے ایف آئی آر میں نیاز جونیجو کا نام ہی شامل نہیں کیا۔ اپنے بیان میں طارق جتوئی نے بھی نیاز جونیجو کا نام لیا لیکن پشت پناہی ہونے کی وجہ سے پولیس نیاز جونیجو کا نام سامنے نہیں آنے دے رہی۔ اپنے بیان میں طارق جتوئی نے بتایا کہ میں نشے میں نہیں تھا لیکن نیاز جونیجو نے مجھے ایسا کرنے پر اکسایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…