اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

نگران حکومت کی تشکیل کھٹائی میں پڑ گئی ، حکومت اپوزیشن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ،مقررہ مدت تک اتفاق نہ ہوا تو پھر کیا ہوگا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت اور اپوزیشن ابھی تک نگران حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں قائد ایوان ا اور قائد حزب اختلاف کی تین ملاقاتوں کے باوجود نگران وزیراعظم کے لئے کوئی نام سامنے نہ آسکا، صرف اس بات پر اتفاق ہو پایا ہے کہ نگران وزیراعظم کی ایمانداری ، دیانتداری اور غیر جانبداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،ذ رائع کے مطابق نگران وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہیں،

یہی وجہ ہے کہ وزیرا عظم اور قائد حزب اختلاف میں تین ملاقاتوں کے باوجود بھی اس سلسلے میں کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آسکا ، کسی بھی نام کے حوالے سے فریقین ابھی تک خاموش ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حکومت کوئی فیصلہ کر پائی ہے اور نہ ہی اپوزیشن ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ میں اب تک ہونے والی ملاقاتوں میں صرف اس بات پر اتفاق ہو پایا ہے کہ نگران وزیراعظم کی ایمانداری ، دیانتداری اور غیر جانبداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کے اتحادیوں کی طرح اپوزیشن کی جانب سے بھی قائد حزب اختلاف کو ابھی تک کوئی نام فراہم نہیں کیا گیا ، خورشید شاہ اس سلسلے میں چند روز قبل تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے علاوہ جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں جبکہ خود پیپلزپارٹی بھی اس حوالے سے ابھی تک خاموش ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ وزیراعظم سے ایک اور ملاقات کریں گے جس میں دونوں جانب سے ناموں کے تبادلے کا امکان ہے ، اس سے قبل تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی جانب سے بھی اپوزیشن لیڈر کو نام موصول ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت کے اب صرف ایک ماہ سترہ دن باقی رہ گئے ہیں جبکہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو اسمبلیوں کے خاتمے کے بعد بھی اس سلسلے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تین دن کا وقت دستیاب ہو گا

اور تب تک فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں یہ معاملہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی اور اس کی جانب سے بھی دو دن میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں یہ ذمہ داری آخری فورم الیکشن کمیشن کے پاس آجائے گی ، جو قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے بھجوائے جانے والے دو ناموں میں سے کسی ایک کا نگران وزیراعظم کے عہدے پر تقرر کر دے گا۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میر ظفر الللہ جمالی نے گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کون ہوتے ہیں جو نگران وزیرعظم کا انتخاب کریں جس پر ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا تھا کہ وزیرعظم اور اپوزیشن لیڈر کو قومی اسمبلی کے ایوان نے منتخب کیا ہے اور نگران حکومت کا تصور بھی اس ایون نے دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…